Bharat Express DD Free Dish

Waqf Act 2025

سیاسی جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ آج کا سیاسی ماحول بہت بگڑ چکا ہے۔ جے ڈی یو، ایل جے پی، ٹی ڈی پی جیسی جماعتوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا ہے۔ انہیں آئندہ انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔

سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر، جو وقف ایکٹ کے مقدمے میں ایک فریق کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو خط لکھ کر نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت مانگی۔

آج ہورہی اس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران کے علاوہ جے پی سی میں شامل اراکین پارلیمنٹ اور کئی اہم اپوزیشن کے سرکردہ شخصیات کے علاوہ جمعیت وجماعت کے قائدین شامل  ہورہے ہیں ۔

جماعت اسلامی ہند مجلس نمائندگان نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے منصفانہ عالمی معاشی نظام کا قیام، آئینی واخلاقی اقدارکے تحفظ پرزور دیا اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کی۔

سابق چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) ایس وائی قریشی نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے بیان پرجوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے لئے مذہبی شناخت ہی ان کی نفرت کی سیاست کو آگے بڑھانے کی بنیادی بنیاد ہے۔

17 اپریل کو سابق چیف الیکشن کمشنر قریشی نے ایک 'X' پوسٹ میں لکھا تھا، ’’یہ وقف قانون یقینی طور پر مسلمانوں کی زمین ہڑپنے کی حکومت کی ایک بہت ہی بری سازش ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ اسے غلط قرار دے گی۔ شرارتی پروپیگنڈہ مشینری نے بھی غلط معلومات پھیلا کر اپنا کام اچھے سے کر دیا ہے۔‘‘

ماسٹرمجاہد عالم نے پارٹی چھوڑنے کے بعد کشن گنج واقع اپنے جے ڈی یو دفتر سے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے پوسٹر اور بینرہٹا دیئے۔ دفترمیں اب صرف مجاہد عالم کے ہی پوسٹر بینرلگے ہوئے ہیں۔ وہ موجودہ وقت میں کشن گنج جے ڈی یو کے ضلع صدر تھے اور 2024 لوک سبھا الیکشن 2024 میں پارٹی کے امیدوار بھی رہے تھے۔

کئی دہائیوں تک وردی میں خدمات انجام دینے کے بعد، سینئرآئی پی ایس افسرنورالہدیٰ نے اب ایک نیا راستہ اختیارکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی خاکی وردی اتارنے کے بعد، وہ کھادی پہن کرعوامی زندگی میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ نئے قانون کے جن نکات پرسخت اعتراض تھا، وکلاء کی پوری بحث انہیں نکات پرمرکوزرہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعات وقف جائیداد کے لئے بہت ہی تباہ کن ہیں، لیکن افسوس کہ ہماری بات نہیں سنی گئی۔

وقف قانون سے متعلق  درخواست پرسماعت کرنے والی بنچ میں چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ، جسٹس سنجےکماراورجسٹس کے وی وشوا ناتھن شامل ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کے اراکین اورمسلم تنظیموں کی طرف سے داخل عرضیوں پرروک نہیں لگائی گئی تو دوسری جانب حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے سات دنوں  کا وقت دے دیا، لیکن کسی بھی طرح کی تقرری پر عدالت نے روک لگا دی اور موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔