Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani on Waqf Amendment Act 2025: ’ہمیں مجبور ہوکر عدالت کا راستہ اختیار کرنا پڑا…‘ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مولانا ارشد مدنی کا بڑا بیان

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ نئے قانون کے جن نکات پرسخت اعتراض تھا، وکلاء کی پوری بحث انہیں نکات پرمرکوزرہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعات وقف جائیداد کے لئے بہت ہی تباہ کن ہیں، لیکن افسوس کہ ہماری بات نہیں سنی گئی۔

مولانا ارشد مدنی نے وقف قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں ساعت کو امید افزا قرار دیا ہے۔

نئی دہلی: وقف ترمیمی قانون کے خلاف داخل عرضی پر جمعرات کو مسلسل دوسرے دن سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ وقف بائیلاج میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور نئے قانون کے تحت بورڈ اور وقف کاؤنسل میں کوئی تقرری نہیں کی جائے گی۔ وہیں، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اس پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا سخت تبصرہ ان کے رخ کی تصدیق کرتے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں نئے قانون کے جن نکات پرسنگین اعتراض تھا اورجووقف املاک کے لئے انتہائی تباہ کن ہیں، ہمیں خوشی ہے کہ وکلاء کی پوری بحث انہیں نکات پرمرکوزرہی۔ خصوصی طورپرچیف جسٹس سنجیوکھنہ نے جن موضوعات پرسخت تبصرہ کیا، وہ نہ صرف اہم ہیں بلکہ ہمارے اس رخ کی تصدیق بھی کرتے ہیں کہ ہم نئے قانون کی مخالفت کرنے میں پوری طرح صحیح پرہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان وکلاء کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے وقف اور نئے وقف قوانین سے متعلق عدالت میں پوری تیاری کے ساتھ ٹھوس اور منطقی بحث کی، خصوصی طورپر ملک کے ناموروکیل کپل سبل نے جو بحث کی، وہ تاریخی تھی۔ ساتھ ہی ہم ملک کے ان تمام انصاف پسند لوگوں، تنظیموں اور لیڈران کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو نہ صرف وقف ترمیمی قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔

مجبورہوکریہ راستہ اپنانا پڑا: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید ارشد مدنی نے مزید کہا کہ اس سچائی سے کون انکارکرسکتا ہے کہ قانون بنانے کا اختیارحکومت کو حاصل ہے، لیکن اگراس حقوق کا استعمال منفی طورپراورغلط مقاصد کے لئے کیا جائے توجمہوری طریقے سے اس کی مخالفت ضروری ہو جاتی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ نئے قانون کی جن دفعات پرچیف جسٹس نے فکرمندی کا اظہارکیا، ہم شروعات سے ہی ان کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے ساتھ میٹنگ میں بھی ہم نے ان دفعات سے متعلق گہری تشویش کا اظہارکیا تھا۔ یہ دفعات ہماری وقف املاک کے لئے بہت ہی تباہ کن ہیں، لیکن افسوس کہ ہماری بات نہیں سنی گئی۔ اگرہماری بات سنی گئی ہوتی توہمیں انصاف کے لئے عدالت کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے کاہ کہ جب انصاف کے تمام راستے بند کردیئے گئے تو ہمیں مجبور ہوکر قانونی لڑائی کا راستہ اپنانا پڑا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read