وقف قانون پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مسلسل دوسرے دن سنوائی کی۔ عدالت نے اس اہم معاملے پر سماعت کرتے ہوئے قانون پرروک تو نہیں لگائی، لیکن عبوری حکم سے دونوں فریق کو راحت ملتی ہوئی نظرآئی ہے۔ عدالت کے عبوری حکم پر دونوں فریق اپنی پیٹھ تھپتپھا سکتے ہیں کیونکہ عدالت نے ایک طرف اپوزیشن اورمسلم تنظیموں کے اعتراضات کو بھی مانا اورقانون میں کچھ خامیاں ہونے کی بات کہیں تووہیں دوسری طرف کہا کہ قانون میں کچھ اچھائیاں بھی ہیں۔
وقف قانون سے متعلق درخواست پرسماعت کرنے والی بنچ میں چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ، جسٹس سنجےکماراورجسٹس کے وی وشوا ناتھن شامل ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کے اراکین اورمسلم تنظیموں کی طرف سے داخل عرضیوں پرروک نہیں لگائی گئی تو دوسری جانب حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے سات دنوں کا وقت دے دیا، لیکن کسی بھی طرح کی تقرری پر عدالت نے روک لگا دی اور موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔
سماعت کے دوران سالسٹرجنرل تشارمہتا نے جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے 7 دن کا وقت مانگا۔ سالیسٹرجنرل نے یقین دلایا کہ آپ کوئی فیصلہ مت دیجئے۔ اگلی سماعت تک وقف بورڈ یا وقف کونسل میں کسیممبر کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے سالسٹر جنرل کا بیان ریکارڈ پر لیا اور حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے 7 دن کی مہلت دے دی۔ حکومت کی جانب سے جواب داخل کرنے کے بعد درخواست گزاروں کو 5 دنوں کا وقت دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 5 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کو اب ایک ہفتہ کے اندرجواب داخل کرنا ہوگا۔ مرکز کا جواب آنے تک وقف املاک کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ جب تک حکومت جواب نہیں دیتی تب تک اس میں کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جائے گی اورنہ ہی کسی طرح کی کوئی تقرری کی جائے گی۔ ریاستی حکومتیں کوئی نیا بورڈ نہیں بنائیں گی۔ جواب ملنے تک وقف کی جائیداد جوں کی توں بنی رہے گی۔ وقف بائی یوزرپربھی فی الحال موجودہ صورتحال برقراررہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: Asaduddin Owaisi on Supreme Court Waqf hearing: وقف قانون سے متعلق سپریم کورٹ کی سماعت پر اسدالدین اویسی نے کیا کہا؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ 110 سے 120 فائلوں کو پڑھنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں ایسے پانچ عرضیوں پر سماعت کی جائے گی۔ درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام فریقین آپس میں فیصلہ کریں کہ ان کے پانچ اعتراضات کیا ہیں؟ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ مقررہ وقت تک وقف بائی یوزر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔وقف کی جائیداد جوں کہ توں بنی رہے گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگلے احکامات تک وقف کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اب جب کیس کی آئندہ سماعت 5 مئی کو ہوگی تب عدالت کی طرف سے اس پر کوئی بڑا فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔اپوزیشن اورمسلم تنظیموں کی بات کو بھی عدالت نے مانا اور کہا کہ قانون میں کچھ خامیاں ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد دونوں گروپوں کے پاس ابھی بہت زیادہ کچھ کہنے کے لئے نہیں ہے، لیکن اگرعدالت کے فیصلے پربات کی جائے تو عدالت نے دو فریق کوبڑا پیغام دیا ہے کہ یکطرفہ طورپرکسی کے حق میں فیصلہ نہیں آنے والا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



