آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے وقف قانون سے متعلق احتجاجی پروگرام کو تین دنوں کے لئے ملتوی کردیا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے اوقاف تحفظ کانفرنس کے بعد بھارت ایکسپریس اردو سے ایکسکلوزیو بات چیت کے دوران کہا کہ معاملہ عدالت میں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارے جمہوری حقوق کو چھین لیا گیا ہے بلکہ احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔ عدالت میں سماعت ہوگی اورعدالت کا فیصلہ آنے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن حکومت کے قانون کے خلاف ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو کانفرنس کی اجازت کافی تاخیر سے ملی، آخری رات میں ہمیں اجازت ملی، لیکن اگرپہلے ہمیں اجازت دی جائے تو اس سے بھی زیادہ لوگ آسانی کے ساتھ آسکتے تھے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جب تک یہ کالے قانون واپس نہیں لئے جاتے تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں پورے اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔ کانگریس کے کسی لیڈر کا شامل نہ ہونے کا مطلب محض ایک اتفاق ہے، لیکن وہ لیڈران ہمارے ساتھ ہیں۔ پروگرام دو دن پہلے فائنل ہوا اور 15 دنوں کے بعد پولیس نے آخری رات میں اجازت دی، اس لئے لوگوں کو پروگرام کنفرم کرنے میں تھوڑا وقت لگا، لیکن وہ ہمارے ساتھ ہیں۔
مودی حکومت نے وقف قانون کو دی منظوری
قابل ذکر ہے کہ مرکزکی مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔جے پی سی کا چیئرمین یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کوبنایا گیا تھا۔ مختلف ریاستوں میں کئی میٹنگوں کے بعد 14 ترامیم کے ساتھ اس بل کومنظوری دی تھی۔جس کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس بل کو منظور کیا گیا۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمونے بھی مہرلگا دی، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔ اس کے بعد مختلف تنظیموں اورکئی اراکین پارلیمنٹ نے اس قانون کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پرسماعت جاری ہے۔ حکومت کوجواب داخل کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اس قانون کے کچھ پہلوؤں پرسوال اٹھایا اورچند نکات کے نفاذ پرروک لگا دی ہے۔ عدالت میں اب 5 مئی 2025 کواس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




