Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025: وقف قانون پرسپریم کورٹ میں بحث جاری، مسلم فریق کی دلیل پرسالسٹرجنرل تشارمہتا نے کردیا یہ بڑا دعویٰ

سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ 1923 سے 1995 کے وقف قانون تک یہ انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتے ہیں۔ 2013 میں الیکشن سے قبل ایک قانون بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔

وقف قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت مسلسل دوسرے دن جاری ہے۔

نئی دہلی: وقف ترمیمی قانون کے خلاف داخل عرضیوں پربدھ (21 مئی، 2025) کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے کہا کہ کوئی بھی عرضی گزارذاتی طورپرقانون سے متاثرنہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کچھ لوگ عرضی داخل کرکے پورے مسلم طبقے کا نمائندہ نہیں بن سکتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جن چیزوں سے انہیں پریشانی ہے، پورا مسلم طبقہ بھی وہی سوچتا ہے۔

مرکزکی طرف سے سالسٹرجنرل تشارمہتا پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے غوروخوض کرکے قانون بنایا اورقانون بنائے جانے سے پہلے لاکھوں لوگوں کے مشورے لئے گئے۔ سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ کچھ لوگ خود کوپورے مسلم طبقے کا نمائندہ نہیں بتا سکتے اور وقف قانون میں 1923 سے ہی کمی چلی آرہی تھی، جسے درست کیا گیا ہے۔

سالسٹر جنرل نے عدالت میں دی یہ دلیل

منگل کے روزبھی اس معاملے میں سماعت ہوئی تھی، جس میں عرضی گزاروں کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل، ابھیشیک منو سنگھوی، راجیودھون اورحذیفہ احمدی نے دلیلیں دیں۔ آج سالسٹرجنرل تشارمہتا نے مرکزی حکومت کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ 1923 سے 1995 کے قانون کا انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتا تھا، لیکن سال 2013 میں الیکشن سے پہلے قانون بنا دیا گیا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسے سدھارا ہے اوروقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال سے مذہب اسلام پرعمل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ اگرکوئی کسی جگہ کا استعمال کررہا ہے، اس کے پاس اس جگہ کے کاغذات نہیں ہیں اوراس کا دعویٰ ہے کہ یہ غیررجسٹرڈ وقف بائی یوزرہے۔ حکومت کے ریکارڈ میں جائیداد سرکاری ہے توکیا اس کی جانچ نہیں ہوگی؟ عرضی گزاروں نے کل سماعت میں جائیداد کے رجسٹریشن پراعتراض ظاہرکیا تھا اورکہا تھا کہ 200-100 سال پرانے وقف کے کاغذات کہاں سے آئیں گے۔

چیف جسٹس بی آرگوئی نے کیا کہا؟

تشارمہتا کی دلیل پرچیف جسٹس بی آرگوئی نے کہا کہ لیکن عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت خود ہی اپنے دعوے کی جانچ کرے گی۔ تشارمہتا نے کہا کہ لینڈ ریوینیوریکارڈ کی جانچ ریونیوآفیسرکریں گے۔ سالسٹرجنرل نے کہا کہ لوگوں کوکلکٹرکی جانچ سے پریشانی تھی، تو دوسرا افسرطے کیا گیا۔ وہ صرف ریوینیو ریکارڈ کی جانچ کرکے ترمیم کرے گا۔ چیف جسٹس نے سالسٹرجنرل سے پوچھا کہ یعنی صرف کاغذات میں انٹری ہوگی۔ تشارمہتا نے چیف جسٹس بی آرگوئی کے سوال پرکہا، جی ہاں، اگرحکومت ملکیت چاہتی ہے تودیوانی مقدمہ بھی دائرکرے گی۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read