Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اورقانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طورپرذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کوآئینی حدود کے اندررہ کرفیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا موجودہ دورمیں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند دیگر انصاف پسند تنظیموں واداروں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی قانون کے مکمل خاتمے تک قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم حکومت سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئینی اصولوں اور مسلمانوں کے تحفظات کی روشنی میں اس قانون کو فوری طور پر واپس لے۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے متنازعہ شقوں پر عارضی پابندی عائد کی ہے، جن پر وسیع پیمانے پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 5 اپریل کو اس متنازعہ ترمیمی قانون کو منظوری دے دی تھی، جسے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شدید بحث و مباحثے کے بعد منظور کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے نفاذ کو روکنے کے لیے کئی درخواست دہندگان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔حالانکہ ابھی تک کوئی آثار ایسے نظر نہیں آرہے ہیں کہ عدالت کب فیصلہ سنائے گی۔

ممبر پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ میں حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ جمہوریت اکڑسے نہیں چلتی، جمہوریت قانون کی کتاب سے چلتی ہے یہ جو قانون ہے جس کوڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکرصاحب نے اپنے خون پسینے سے لکھا تھا اس کتاب سے ملک چلے گا، کسی کی اکڑ اورضد سے نہیں چلے گا مودی جی۔

وقف ترمیمی قانون سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بڑا بیان دیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور بی جے پی حکومت ہم سے وقت کے تحت زمین نہیں چھین سکتے۔

اس سے قبل محسن رضا نے اپوزیشن جماعتوں اور مسلم مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سے مسلم رہنما ایسے ہیں جن کے پاس بھاری وقف املاک ہے، اب ان سے اس کا جواب مانگا جائے گا، اسی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل نے بدھ کو سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وقف ایک اسلامی تصور ہے اور اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ 1923، 1954، 1995 کے قوانین میں ایک شق موجود تھی کہ کوئی بھی شخص وقف املاک کو رجسٹر کروا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں آج تقریباً 4 گھنٹے تک وقف ترمیمی قانون پر سماعت ہوئی۔ اس دوران قانون کو چیلنج پیش کرنے والے عرضی دہندگان کے وکلاء کی طرف سے مضبوط دلائل پیش کیے گئے۔ کل حکومت ان کا جواب دے گی۔