Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act

سپریم کورٹ میں آج وقف ترمیمی قانون کوچیلنج دینے والی عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 20 مئی کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت کے دوران ہندوفریق کی طرف سے وقف ایکٹ 1995 کے جوازکوچیلنج کرنے والی کسی بھی درخواست پرغورنہیں کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت سے چار ہفتوں کے اندر مفصل جواب مانگا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف املاک سے متعلق قوانین کی پاسداری ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔

پی ایم مودی نے کہاکہ ہمارے ملک کے درجنوں اضلاع کو پسماندہ کا لیبل لگا کر چھوڑ دیا گیا، آج وہ ڈیلیور کر رہے ہیں۔ قبائلیوں کو بھی یقین ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کر سکتی ہے۔ یہ ہماری حکومت بلا تفریق ملکی وسائل کی ترقی کے لیے کر رہی ہے۔

جمیعۃ علماء ہند کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اگر حکومت عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر قائم رہتی ہے تو معاملے کو ہونے والے نئے چیف جسٹس کی صدارت والی بنچ کو سونپے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

اس بل کو منظور کرنے سے پہلے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے 36 اجلاس ہوئے تھےاور 97 لاکھ سے زائد اسٹیک ہولڈرز نے تجاویز اور میمورنڈم  دیں۔ کمیٹی نے ملک کے دس بڑے شہروں کا دورہ کیا اور عوام کے درمیان ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی ۔

مرکز کی مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔جے پی سی کا چیئرمین یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کو بنایا گیا تھا۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ وقف قانون بناکر حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو اجاگر کر دیا ہے، لیکن ہم اپنی پرامن لڑائی کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت  ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

داؤدی بوہرا برادری کے ایک وفد نے آج وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرتے ہوئے وقف ترمیمی قانون کے لیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔