Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act case: وقف قانون پر اب سپریم کورٹ میں 15مئی کو ہوگی اگلی سماعت،نئے چیف جسٹس کی بنچ کرے گی شنوائی

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

وقف قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت مسلسل دوسرے دن جاری ہے۔

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے آج  کہا کہ متنازعہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نہیں کرے گی۔اس معاملے کی  اب جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی والی بنچ شنوائی کرے گی۔یہ پیشرفت اس  وجہ سے  ہوئی ہے کہ چیف جسٹس سنجیو کھنہ 13 مئی کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ہیں اور اس معاملے کو عبوری حکم دینے کے لیے بھی طویل سماعت کی ضرورت ہوگی۔

سی جے آئی سنجیو کھنہ نے آج اس معاملے کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر عبوری حکم دینے سے پہلے طویل سماعت کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی ہے۔ سی جے آئی کھنہ 13 مئی کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اگلے سی جے آئی بی آر گوائی اس کیس کی سماعت کریں گے۔جسٹس بی آر گوائی 14 مئی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، اب اس کیس کی سماعت 15 مئی کو ہوگی۔

قبل ازیں، 17 اپریل کو ان درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وقف املاک کی ڈی نوٹیفکیشن اور سنٹرل وقف کونسل سمیت بورڈز میں نئی ​​تقرریوں پر پابندی لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور درخواست گزار کو اس پر جواب داخل کرنے کا وقت بھی دیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read