نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ تال کٹورہ انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ تحفظ اوقاف کانفرنس میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ وقف قانون کی لڑائی بی جے پی کی سوچ کی وجہ سے لڑنی پڑ رہی ہے، لیکن سماجوادی پارٹی اور اکھلیش یادو کی ہدایت پر ہم پوری طرح سے اس لڑائی میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔دھرمیندر یادو نے ان سیکولر جماعتوں پر سوال اٹھایا جنہوں نے وقف قانون کی حمایت میں بی جے پی کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کو بھی اپنے اپنے طریقے سے ایسے لوگوں کے خلاف کھل کر آنا ہوگا اور بہار سے ہی اس کی شروعات کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ سے اس لڑائی میں ہمیں جیت ملے گی اور وقف قانون ختم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی ہر سطح پر لڑائی جاری رکھے گی۔انہوں نے یوپی کی موجودہ صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں سبھی مذاہب کے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف لڑائی جاری رکھنی ہے تاکہ سماج کے تمام محروم طبقات کی لڑائی کو لڑی جائے اور بی جے پی کی کوششوں کو ناکام کیا جائے۔
قانون مسلمانوں کے خلاف: پرسنل لاء بورڈ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وقف قانون بناکر حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو اجاگر کر دیا ہے، لیکن ہم اپنی پرامن لڑائی کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے نائب صدر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد، خواجہ اجمیری درگاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا سرور چشتی، محمد سلیمان، صدر انڈین یونین مسلم لیگ، عیسائی رہنما اے سی مائیکل، محمد شفیع، نائب صدر ایس ڈی پی آئی، روی شنکر ترپاٹھی، سردار دیال سنگھ وغیرہ موجود تھے۔
مودی حکومت نے وقف قانون کو دی منظو
قابل ذکر ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔جے پی سی کا چیئرمین یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کو بنایا گیا تھا۔مختلف ریاستوں میں کئی میٹنگوں کے بعد 14 ترامیم کے ساتھ اس بل کو منظوری دی تھی۔جس کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس بل کو منظور کیا گیا۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی مہر لگا دی، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔ اس کے بعد مختلف تنظیموں اور کئی اراکین پارلیمنٹ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر سماعت جاری ہے۔حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اس قانون کے کچھ پہلوؤں پر سوال اٹھایا اور چند نکات کے نفاذ پر روک لگا دی ہے۔ عدالت میں اب 5 مئی 2025 کو اس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


