Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act

درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانونی پر عبوری فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلے کے تحت مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں تفصیلی جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے تب تک اس نئے ترمیمی قانون کے تحت کوئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ وقف ترمیمی قانون پر آج پھر سماعت شروع ہوچکی ہے۔ اور آج ایسا ممکن ہے کہ سپریم کورٹ آج اس قانون سے متعلق عبوری فیصلہ بھی صادر کرے۔

سپریم کورٹ میں وقف قانون کو چیلنج دینے والی 70 سے زائد عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ مسلم فریق کی طرف سے بیشتر دلیلیں سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے رکھی۔ چیف جسٹس سنجیوکھنہ کی قیادت والی تین رکنی بینچ اس موضوع کی سماعت کررہی ہے۔

دیا سنگھ نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیاہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ہندو اور سکھ مذہبی ٹرسٹوں کو خود مختار قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اس قانون کو لا کر مسلم وقف کے معاملات میں حکومتی مداخلت بڑھا دی گئی ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔

نئے وقف ترمیمی ایکٹ کی دفعہ3 ای کے تحت درج فہرست قبائل کے لوگوں کی زمین کو وقف جائیداد قرار دینے سے منع کیا گیا ہے۔ قبائلی تنظیمیں اسے اپنی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم شق سمجھ رہی ہیں۔

جے ایم ایم نے ریاست میں صنعتوں اور دیگر کاموں کے لیے حاصل کی گئی ویسی زمینوں کو واپس کرنے کا قرارداد بھی پاس کیا ہے، جن کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ قرارداد میں زمین کی واپسی اور حصول اراضی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی بحالی کے لیے کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) کے صدر اور مشہور تمل اداکار وجے نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ ان کے ایسے رویہ کی وجہ سے اتر پردیش میں بھی بہوجنوں کی حالت ہر معاملے میں بہت خراب ہے اور پریشان ہیں جبکہ بی جے پی کے لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی آزادی ہے۔ ساتھ ہی، بجلی اور دیگر سرکاری محکموں میں بڑھتی ہوئی نجکاری کے باعث صورتحال تشویشناک ہے۔ حکومت عوامی فلاح و بہبود کی اپنی آئینی ذمہ داری کو صحیح سے نبھائے۔

ہمانتا بسوا سرما نے ٹوئٹر پر لکھا کہ آسام میں جہاں مسلمانوں کی آبادی 40 فیصد کے قریب ہے، وقف ایکٹ کے خلاف احتجاج پرامن رہا۔ پولیس وہاں پہلے سے تیار تھی، اس لیے حالات قابو میں رہے۔