سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مسلسل دوسرے دن سماعت کی۔ جمعرات کو سماعت کے دوران ایس جی تشار مہتا نے جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے 7 دن کا وقت مانگا۔ سالیسٹر جنرل نے یقین دلایا کہ اگلی سماعت تک وقف بورڈ یا وقف کونسل میں کسی رکن کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے ان کا بیان ریکارڈ پر لیا اور حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے 7 دن کی مہلت دے دی۔ حکومت کی جانب سے جواب داخل کرنے کے بعد درخواست گزاروں کو 5 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کو ہوگی۔
#WATCH | Delhi: On the SC observations after hearing the petitions challenging the Waqf Amendment Act, AAP leader Amanatullah Khan says, “I am thankful to the Supreme Court, judges and advocates who rose above religion and helped us in protecting our country. We are satisfied… pic.twitter.com/h1nqPLMlvy
— ANI (@ANI) April 17, 2025
جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ پر مرکزی حکومت کو 7 دن کا وقت دیا۔ مرکز سے اس پر ایک ہفتہ کے اندر جواب دینے کو کہا گیا ہے۔ مرکز کا جواب آنے تک وقف املاک کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ جب تک حکومت جواب نہیں دیتی تب تک جمود برقرار رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ احکامات تک کوئی نئی تقرریاں نہیں ہوں گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ 110 سے 120 فائلوں کو پڑھنا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں ایسے پانچ نکات پر فیصلہ کرنا ہو گا۔ صرف 5 اہم اعتراضات کی سماعت کی جائے گی۔
#WATCH | Delhi | On the Supreme Court’s observations after hearing the petitions challenging the Waqf Amendment Act, Congress leader Imran Pratapgarhi says, “I am thankful to the Supreme Court for the interim relief. The Court raised almost all the issues that we raised in the… pic.twitter.com/GJPyYXDIFK
— ANI (@ANI) April 17, 2025
درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ مقررہ وقت تک وقف بائی یوزر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔وقف کی جائیداد جوں کہ توں بنی رہے گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگلے احکامات تک وقف کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کو ہوگی۔ اس دوران عدالت میں صرف 5 رٹ پٹیشنرز موجود ہوں گے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ تمام فریقین آپس میں فیصلہ کریں کہ ان کے پانچ اعتراضات کیا ہیں؟وقف درخواستوں کی سماعت کرنے والی بنچ میں سی جے آئی سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن شامل ہیں۔
Petitions challenging validity of the Waqf (Amendment) Act, 2025 | Supreme Court takes on record the statement of Solicitor General that Centre will respond within seven days. SC says, Solicitor General assures the court that no appointments will be made to the Council and Board.… pic.twitter.com/268WDzhvIT
— ANI (@ANI) April 17, 2025
یہ درخواستیں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی، اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان، شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایسوسی ایشن، ارشد مدنی، سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء، انجم قادری، طیب خان سلمانی، محمد شفیع، محمد فضل الرحیم اور آر جے ڈی لیڈر منوج کمار جھا نے دائر کی ہیں۔ ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا اور سماج وادی پارٹی کے لیڈر ضیاء الرحمن برق کی طرف سے دائر تازہ درخواستوں کو بھی درج کیا گیا ہے۔
عدالت میں وقف ایکٹ کی سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے وقف ایکٹ کی دفعات پر پابندی کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ دفعات پر روک لگانا ایک سخت قدم ہو گا۔ واضح رہے کہ وقف ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں مسلم کمیونٹی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے زبردست احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال کے مرشد آباد میں وقف ایکٹ کے خلاف احتجاج میں ہوئے تشدد کی وجہ سے سیاسی ماحول بھی کافی گرم ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
