سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانونی پر عبوری فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلے کے تحت مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں تفصیلی جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے تب تک اس نئے ترمیمی قانون کے تحت کوئی تقرری نہیں ہوگی، قانون کے تین اہم شق پر عبوری روک رہے گی۔جب تک مرکزی حکومت کا جواب نہیں آتا تب تک وقف سے منسلک ٹرسٹ میں کوئی تقرری حکومت نہیں کرے گی۔ریاستی حکومت کوئی نیا بورڈ نہیں بنائے گی۔ جواب ملنے تک وقف کی جائیداد جوں کی توں بنی رہے گی۔وقف بائی یوزر پر بھی فی الحال موجودہ صورتحال برقرار رہےگی۔
Petitions challenging validity of the Waqf (Amendment) Act, 2025 | Supreme Court takes on record the statement of Solicitor General that Centre will respond within seven days. SC says, Solicitor General assures the court that no appointments will be made to the Council and Board.… pic.twitter.com/268WDzhvIT
— ANI (@ANI) April 17, 2025
سپریم کورٹ میں وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے حوالے سے آج سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشارمہتا نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سوالات بہت ہیں اور کچھ معاملات کو کھل کر بیان کرنے میں دشواری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر کچھ دفعات کی بنیاد پر مکمل پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے، کیونکہ اس کے لیے ماضی کے قوانین اور ترامیم کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
#WATCH | On Waqf Act hearing in Supreme Court, AIMIM MP Asaduddin Owaisi says, “We consider this Act unconstitutional. The Court has said that the Central Waqf Council and the State Waqf Council will not be constituted, and ‘Waqf by user’ cannot be deleted. During the… pic.twitter.com/TMYNfCRvOV
— ANI (@ANI) April 17, 2025
ایس جی مہتا نے بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جہاں دیہاتوں اور گاؤں کی زمینوں کو وقف کے طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے جائیداد سے متعلق سوالات ہیں اور اس معاملے میں عدالت سے رہنمائی درکار ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ایک ہفتے کا وقت دیا جائے تاکہ ابتدائی جواب کے ساتھ کچھ دستاویزات پیش کی جا سکیں، کیونکہ یہ معاملہ اس طرح فوری طور پر طے نہیں کیا جا سکتا۔
#WATCH | Delhi | On SC hearing on Waqf Amendment Act, Advocate Barun Kumar Sinha says, “The Supreme Court didn’t put a stay. The Solicitor General of India said that no appointment will be made either in the council or in the board under the new amendment act. The Supreme Court… pic.twitter.com/lRpBPgojgz
— ANI (@ANI) April 17, 2025
اس کے بعد جسٹس کمار نے کہا کہ عدالت فی الحال حتمی فیصلہ نہیں کر رہی۔ اس پر ایس جی مہتا نے کہا کہ مکمل پابندی ایک سخت قدم ہوگا۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ نے کہا کہ قانون میں کچھ مثبت پہلو ہیں، لیکن مکمل پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت موجودہ صورتحال کو تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتی، خاص طور پر وہ دفعات جو مثلاً پانچ سال تک اسلام کی پیروی سے متعلق ہیں، ان پر پابندی نہیں لگائی جا رہی۔ سی جے آئی نے کہا کہ جب معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہے۔
ایس جی مہتا نے کہا کہ عدالت کے کچھ فیصلوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بھی دستاویزات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایک ہفتے کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ سی جے آئی نے کہا کہ 2025 کے ایکٹ کے تحت بورڈ یا کونسل میں کوئی تقرری نہیں ہوگی، اور 1995 کے ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ وقف املاک کی حالت تبدیل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو فیصلہ کرتا ہے اور عدلیہ اس کا جائزہ لیتی ہے۔
سینئر ایڈووکیٹ رنجیت کمار نے کہا کہ اب کوئی نیا وقف رجسٹر نہیں کیا جائے گا ،اگر نیا ایکٹ نافذ نہیں ہوتا۔ ایس جی مہتا نے کہا کہ بورڈ کی تقرری ان کے اختیار میں ہے اور وہ اسے روک لیں گے۔ سی جے آئی نے کہا کہ اس معاملے میں ریاستیں بھی شامل ہیں۔ ایس جی مہتا نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی ریاست عدالت کے فیصلے تک کوئی تقرری کرتی ہے تو اسے کالعدم سمجھا جائے گا۔
اس سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے حکم دیا کہ سماعت کے دوران ایس جی مہتا نے کہا کہ پانچ عرضی دہندگان 7 دن کے اندر مختصر جواب جمع کرنا چاہتے ہیں اور یقین دہانی کرائی کہ اگلی تاریخ تک 2025 کے ایکٹ کے تحت بورڈز یا کونسلز میں کوئی تقرری نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وقف، بشمول وقف بائی یوزر، جو پہلے سے نوٹیفکیشن یا گزٹ کے ذریعے اعلان شدہ ہیں، ان کی حالت تبدیل نہیں کی جائے گی۔
عدالت نے ہدایت دی کہ 7 دن کے اندر جواب جمع کیا جائے اور اس کے جواب میں 5 دن کے اندر جوابی درخواست دائر کی جائے۔سی جے آئی نے کہا کہ فریقین لیڈ کیسز کی شناخت کریں گے اور باقی درخواستوں کو ان لیڈ کیسز میں درخواستیں سمجھا جائے گا۔ 1995 کے وقف ایکٹ اور 2013 کی ترامیم کو چیلنج کرنے والی رٹ درخواستوں کو اس فہرست سے الگ رکھا جائے گا۔ 2025 کے کیس میں رٹ دائر کرنے والوں کو خصوصی طور پر جواب دائر کرنے کی اجازت ہوگی۔ مرکزی حکومت، ریاستیں اور وقف بورڈز بھی 7 دن کے اندر جواب دائر کریں گے، اور جوابی درخواست 5 دن میں دائر کی جائے گی۔معاملے کی اگلی سماعت پانچ مئی کو ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



