نئی دہلی : دیوالی کے تہوار کی تیاریاں دہلی-این سی آر کی سڑکوں پر ٹریفک کے لیے بڑی پریشانی بن گئی ہیں۔ دارالحکومت دہلی سے لے کر نوئیڈا تک سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور لوگوں کی بھاری بھیڑ نظر آ رہی ہے۔ گھر سجانے، مٹھائیاں خریدنے اور خاص طور پر پھولوں کی خریداری کے لیے بڑی تعداد میں لوگ بازاروں کا رخ کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔مشرقی دہلی کا غازی پور بارڈر اور قومی شاہراہ 24 پر واقع غازی پور پھول منڈی ٹریفک جام کا سب سے بڑا مرکز بن گئی ہے۔ دیوالی کے موقع پر رنگولی بنانے، پوجا اور گھروں کی سجاوٹ کے لیے تازہ پھولوں کی مانگ اچانک بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں افراد پھول خریدنے کے لیے منڈی پہنچ رہے ہیں۔ چھوٹی گاڑیوں، آٹو رکشوں، کاروں اور ٹرکوں کی ایک ساتھ آمدورفت سے پورا علاقہ جام ہو گیا ہے۔پھولوں کی خریداری کے لیے لوگوں کا جوش ٹریفک کی پریشانی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ صبح سے شام تک گاڑیاں سڑکوں پر آہستہ آہستہ رینگتی دکھائی دے رہی ہیں، جس کا اثر آس پاس کے علاقوں میں بھی پڑ رہا ہے۔
پنکھا روڈ اور جنک پوری میں دھن تیرس کے بعد بھی جام
دھن تیرس کے دن خریداری عروج پر پہنچنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اگلے دن ٹریفک سے کچھ راحت ملے گی، لیکن مغربی دہلی کے پنکھا روڈ اور جنک پوری علاقوں میں بھیڑ اور جام کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ علاقے مغربی دہلی کے اہم راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں بازار، مالز اور رہائشی کالونیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔لوگ سونے چاندی کے زیورات، برتن، کپڑے اور تحائف خریدنے کے لیے بڑی تعداد میں باہر نکل رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ پارکنگ کی کمی اور بے ترتیب پارکنگ نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ کئی مقامات پر ٹریفک پولیس اہلکار تعینات ہیں، لیکن لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث ٹریفک کو قابو میں رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔اس جام کی سب سے بڑی وجہ دیوالی سے پہلے بڑے پیمانے پر ہونے والی خریداری ہے۔ لوگ ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اس سے عوامی ٹرانسپورٹ پر دباؤ بڑھتا ہے اور نجی گاڑیوں کا استعمال بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ نوئیڈا جانے والے راستے بھی متاثر ہیں، کیونکہ بہت سے لوگ وہاں اپنے رشتہ داروں سے ملنے یا خریداری کرنے جاتے ہیں۔ٹریفک جام کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ ایندھن کی کھپت اور فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کو دفتر پہنچنے اور گھر واپس آنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی خدمات سے وابستہ گاڑیوں کے لیے بھی راستہ نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ٹریفک جام سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
ٹریفک پولیس کی جانب سے اضافی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور بعض مقامات پر متبادل راستوں کی تجاویز بھی دی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ضرورت نہ ہونے پر نجی گاڑیوں کا استعمال کم کریں، عوامی ٹرانسپورٹ یا میٹرو سے سفر کریں اور خریداری کے لیے الگ الگ اوقات کا انتخاب کریں۔غازی پور پھول منڈی جیسے حساس مقامات پر بھیڑ کو قابو میں رکھنے اور پارکنگ کے بہتر انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل مدت میں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنا کر اور جدید ٹریفک مینجمنٹ کے ذریعے اس طرح کی پریشانیوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔دیوالی کی خوشیاں برقرار رہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ سڑکوں پر سفر کرتے وقت لوگ صبر اور سمجھ داری سے کام لیں۔ ٹریفک جام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ اور شہریوں، دونوں کو مل کر کوشش کرنی ہوگی تاکہ تہوار کی رونق کے ساتھ لوگوں کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


