موتیہاری: بہار میں پاکستانی سائبر ٹھگوں کے ساتھ مبینہ طور پر ملی بھگت کرکے آن لائن دھوکہ دہی کی رقم کی منتقلی میں ملوث دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سنگرام پور تھانہ علاقے کے شیام پور بروَا گاؤں کے رہنے والے راجو کشواہا عرف راجو کمار بھگت اور ڈومریا گھاٹ تھانہ علاقے کے سیموا پور گاؤں کے رہنے والے پنکج گپتا کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے دو موبائل فون، چھ اے ٹی ایم کارڈ، آدھار کارڈ، پین کارڈ سمیت دیگر اشیا برآمد کی ہیں۔
خفیہ اطلاع پر پولیس کی کارروائی، دو ملزمان گرفتار
صدر-1 کے ڈی ایس پی دلیپ کمار نے ہفتہ کو بتایا کہ دونوں ملزمان شہر کے بیلی سرائے محلے میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔ جمعہ کو پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ دو افراد کرائے کے مکان میں رہ کر پاکستانی شہریوں کے رابطے میں ہیں اور ان کے کہنے پر کیو آر کوڈ کے ذریعے رقم منتقل کرتے ہیں۔ اطلاع کی بنیاد پر ایس پی سورن پربھات کی ہدایت پر پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق، معاملے میں پاکستانی سائبر ٹھگوں کے ساتھ ان کے روابط کی جانچ کی جارہی ہے۔
گاؤں کے لوگوں کو لالچ دے کر حاصل کرتے تھے بینک اکاؤنٹ
ڈی ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان گاؤں کے سادہ لوح لوگوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ان کے بینک اکاؤنٹ اور اے ٹی ایم کارڈ حاصل کرلیتے تھے۔ اس کے بعد وہ ان بینک کھاتوں کی تفصیلات پاکستان میں بیٹھے سائبر ٹھگوں کو بھیج دیتے تھے۔ پاکستانی سائبر مجرم ان کھاتوں میں آن لائن دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقم جمع کراتے تھے۔ پولیس کے مطابق، راجو اور پنکج اس رقم میں سے اپنا کمیشن کاٹنے کے بعد اپنے پاکستانی سرپرستوں کی ہدایت پر کیو آر کوڈ، فون پے اور دیگر ذرائع سے مختلف بینک کھاتوں میں رقم منتقل کردیتے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی اس رقم کا استعمال ملک مخالف سرگرمیوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔
ایس آئی ٹی تشکیل، دیگر سکیورٹی ایجنسیاں بھی تحقیقات میں شامل
ڈی ایس پی نے بتایا کہ ایس پی سورن پربھات کی ہدایت پر معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری انسپکٹر رینک کے افسر کو سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے، جو سائبر تھانہ اور ڈسٹرکٹ انویسٹی گیشن یونٹ (ڈی آئی یو) کے ساتھ مل کر مزید جانچ کرے گی۔ ایس پی خود بھی اس معاملے کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔ گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق، برآمد کیے گئے موبائل فون کی جانچ کے دوران پاکستانی شہریوں کے ساتھ واٹس ایپ کے ذریعے رابطے اور غیر قانونی لین دین کے شواہد بھی ملے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر دیگر سکیورٹی ایجنسیاں بھی تحقیقات میں شامل ہوگئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


