Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

بی آر گوئی نے حال ہی میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا ہے اور وہ اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے ایسے جج ہیں جن کا تعلق دلت طبقے سے ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے الوداعی تقریب نہ رکھنے کی وجوہات واضح نہیں ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ جسٹس تریویدی کے کچھ سخت فیصلوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے کہا ہے کہ جب ملک اتنے مشکل وقت سے گزر رہا ہے تب آپ اس طرح کے خیالی واقعات لے کر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے 43 روہنگیا پناہ گزینوں کی جبری ملک بدری پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

عدالت کی جانب سے متعین کی گئی پانچ پٹیشن میں مولانا ارشد مدنی کی پٹیشن کا پہلا نمبر ہے، جس پرسینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے آج بحث کی۔ اگلی سماعت پرعدالت وقف ترمیمات پرعبوری اسٹے کے تعلق سے ہی سماعت کرے گی، اس بات کا خلاصہ چیف جسٹس گوئی نے آج دوران سماعت کیا۔

سپریم کورٹ نے وجے شاہ کے خلاف داخل عرضی پرروک لگانے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے انہیں کہا کہ آئینی عہدے پرہونے کے ناطے ہر لفظ کوذمہ داری کے ساتھ بولنا چاہئے۔

سپریم کورٹ میں آج وقف ترمیمی قانون کوچیلنج دینے والی عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 20 مئی کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت کے دوران ہندوفریق کی طرف سے وقف ایکٹ 1995 کے جوازکوچیلنج کرنے والی کسی بھی درخواست پرغورنہیں کیا جائے گا۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کرنل صوفیہ قریشی پر دیے گئے متنازعہ بیان پر وجے شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد وزیر شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور جلد سماعت کی درخواست کی ہے۔

صدر مرمو نے آئین کی دفعہ 143 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے طلب کی ہے۔ آئین کی یہ دفعہ صدر کو قانونی مسائل یا عوامی اہمیت کے معاملات پر عدالت سے مشورہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

جسٹس گوائی ملک کے دوسرے دلت چیف جسٹس بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے جسٹس کے جی بالاکرشنن چیف جسٹس آف انڈیا بنے۔ جسٹس بالاکرشنن سال 2007 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’