Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

ایک ریسرچ اسکالر ڈاکٹر پنکج کمود چندر پھڈنیس کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ راہل گاندھی ساورکر کے خلاف مبینہ بیانات دے کر درخواست گزار کے بنیادی فرائض کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے ذریعہ کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف دیئے گئے قابل اعتراض بیان کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے اپنی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں سیل بند لفافے میں داخل کردی ہے۔ رپورٹ میں مختلف حقائق اورویڈیو فوٹیج کی تصدیق شامل ہے۔  سپریم کورٹ 28 مئی کو رپورٹ پرغورکرے گا۔

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

جمعیۃعلماء ہند نے اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ’کل ہند تحفظ مدارس کنونشن‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں مسالک سے بالاتر ہو کر مدارس کے ذمہ داران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اپنی درخواست میں خاتون نے کہا کہ اسے زچگی کی چھٹی اس بنیاد پر دینے سے انکار کیا گیا کہ اس کی پہلی شادی سے اس کے دو بچے ہیں۔ تمل ناڈو میں یہ اصول ہے کہ زچگی کے فوائد صرف پہلے دو بچوں کے لیے دستیاب ہوں گے۔

آئی آئی ٹی کھڑگپور کے طالب علم کی موت پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی آر درج کرنے میں چار دن کی تاخیر کیوں ہوئی؟ عدالت نے عہدیداروں کو تنبیہ کی کہ یہ بہت سنگین معاملات ہیں اور انہیں ہلکا نہ لیا جائے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل نے بدھ کو سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وقف ایک اسلامی تصور ہے اور اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ 1923، 1954، 1995 کے قوانین میں ایک شق موجود تھی کہ کوئی بھی شخص وقف املاک کو رجسٹر کروا سکتا ہے۔

تمل ناڈو حکومت نے ای ڈی کے چھاپوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے ان چھاپوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے ای ڈی کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

سپریم کورٹ میں آج جسٹس یشونت ورما پر ایف آئی آردرج کرنے سے متعلق عرضی داخل کی گئی تھی۔ عدالت نے اس عرضی کو سننے سے انکارکردیا۔ آئیے جانتے ہیں کہ عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے کیا کہا ہے۔

سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ 1923 سے 1995 کے وقف قانون تک یہ انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتے ہیں۔ 2013 میں الیکشن سے قبل ایک قانون بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔