Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

ایمس کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے ہریش کے گھر جا کر معائنہ کیا اور عدالت میں رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق ہریش ٹریکیو اسٹومی ٹیوب کے ذریعے سانس لے رہے ہیں اور گیسٹروسٹومی ٹیوب کے ذریعے کھانا دیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوری نظام کے تین بنیادی ستون یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ملک کے نظام کو چلانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اخبار کے ذریعے انہیں کتاب کے مندرجات کے بارے میں معلوم ہوا،

اپنی درخواست میں عمران خان نے سفارش کی ہے کہ انہیں ریٹینا اسپیشلسٹ سے علاج کے لیے فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے مشورہ کرنے کی اجازت دی جائے اور وہ ’چیک اپ اور علاج کے تمام عمل سے جڑے رہیں۔‘‘

ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جسٹس جوائے منگل باگچی کی بنچ میں اس کیس کی بدھ کے روز ہوئی سماعت کے دوران ہیمنت سورین کی طرف سے وکیل پرگیا سنگھ بگھیل نے دلیل پیش کی۔

فضائی آلودگی سے متعلق عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے دہلی این سی آر میں بڑھتی فضائی آلودگی کے معاملے پر مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے مرکز سے یہ بھی پوچھا ہے کہ دہلی این سی آر کے علاقے سے نئے کوئلہ پر مبنی پاور پلانٹس کو باہر منتقل کرنے کی تجویز پر اس کا کیا موقف ہے۔

امریکی انتظامیہ کے مطابق نیا عالمی ٹیرف ابتدائی طور پر 150 دن تک نافذ رہے گا۔ اس مدت کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات اور محصولات کی شرح کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں بعض ممالک پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے،

رحمان کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موسیقار اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ گانے کے کریڈٹ میں مرحوم استاد این فیاض الدین ڈاگر اور استاد این ظاہرالدین ڈاگر، جو جونیئر ڈاگر برادرز کے نام سے معروف تھے، کی پیشکش کا باقاعدہ ذکر شامل کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغل حکمراں بابر یا بابری مسجد کے نام پر ملک میں کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے سے متعلق دائر عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی عرضی عدالتی مداخلت کے دائرہ کار میں نہیں آتی، جس کے بعد عرضی گزار نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

فری بیز سے متعلق معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے بڑھتے ہوئے ریونیو خسارے کے باوجود ریاستی حکومتوں کی جانب سے مفت اسکیمیں جاری رکھنے پر سوال اٹھایا۔

سماعت کے دوران عدالت نے تحقیقات میں تاخیر پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سخت احکامات جاری نہیں کرنا چاہتی، قابل ذکر بات یہ ہےکہ ای ڈی اور مرکزی تفتیشی بیورو کی اسٹیٹس رپورٹ کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ تقریباً چالیس ہزار کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق سنگین معاملہ ہے۔