Bharat Express DD Free Dish

Shehbaz Sharif

16 اپریل کو منیر نے وزیر اعظم شریف کی موجودگی میں اسلام آباد میں تارکین وطن پاکستانیوں کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ وہ یہ نہ بھولیں کہ وہ ایک ’اعلیٰ نظریہ اور ثقافت‘ سے وابستہ ہیں۔

پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ نئی دہلی نے اسلام آباد کے خلاف کئی سخت سفارتی اور تزویراتی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کی فوری معطلی، اٹاری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کو بند کرنے، پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سروسز کی فوری معطلی سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔

افغانستان کی عبوری حکومت بارہا افغان مہاجرین سے بیرون ملک پناہ گزینوں کے طور پر رہنا بند کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ وہ بیرون ملک مقیم افغانوں سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ وطن واپس آکر جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالیں۔

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ملک کے مختلف تجارتی اداروں پر عائد حالیہ پابندیوں کی بھی مذمت کی اوراسے بغیر کسی مشاورت، ثبوت یا دلیل کے یکطرفہ فیصلہ قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’ہم امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے بل سے آگاہ ہیں۔ یہ افراد کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ امریکہ اور پاکستان کے وسیع تر تعلقات کی۔‘‘

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں پاکستانی ٹیم کی شکست کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ یہ اطلاع وزیر اعظم شہباز شریف کے سیاسی و عوامی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ ملک کے حالات سے بے خبر ہیں۔

ڈار نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت سے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے اور بین الاقوامی میدان میں اس کا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوششیں کیں جس سے ’ الگ تھلگ  پڑےپاکستان‘ کی شبیہہ کو ختم کرنےمیں مدد ملی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے اس معاملے پر مسلسل اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا۔ ’’ہم اپنے خدشات کے بارے میں واضح اور مستقل رہے ہیں، اور ہم ان مسائل پر پاکستان کے ساتھ تعمیری طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔‘‘

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا ہے۔ اس بار دہشت گردوں کے اس حملے نے پاکستان کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بیان کے مطابق خودکش دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی دیوار کا ایک حصہ گر گیا جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا جس کے ’نتیجے میں دو ایف سی اہلکاروں سمیت 12 سکیورٹی فورسز کے اہلکار جان سے گئے۔