Bharat Express DD Free Dish

Shehbaz Sharif

وزیر خارجہ جے شنکر نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق واحد مسئلہ جس پر نئی دہلی اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہے وہ ہے پاکستان کے غیر قانونی طور پر قابض علاقے کے کچھ حصوں کو خالی کرنا۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں پاکستانی فوج کی تعریف کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہم سے کئی گنا بڑا تھا، لیکن آپ نے ان کو بے زبان کر دیا۔ اس دوران شہباز شریف نے انڈین اسٹرائیک سے ہوئے نقصان کا ذکر نہیں کیا۔

ہندوستان اورپاکستان میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان رکا توہم بھی رکنے کے لئے تیارہیں۔

ہندوستان نے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر پاکستان کے گزشتہ خراب ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف پروگراموں پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔

ہندوستان-پاکستان سرحد پربڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان کے ڈرون حملے کوہندوستانی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے پُرامن حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔ فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی حل کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھورہے ہیں۔ ساتھ ہی خواتین اور بچے بے گھر ہورہے ہیں۔

پاکستانی رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان نے حال ہی میں ’آپریشن سندور‘ کے تحت دہشت گردوں کے کیمپوں پر اسٹرائیک کی ہے اور پاکستان عالمی فورمز پر گھرا ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں اندرونی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام پاکستان کی پوزیشن کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔

جموں وکشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 بے قصورسیاحوں کی موت کا انجام اب پاکستان بھگت رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ 5مقامات پرہندوستان نے حملہ کیا ہے۔

پاکستان کے کئی سیلبرٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرڈیجیٹل اسٹرائیک کے بعد ہندوستانی حکومت نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے آفیشیل یوٹیوب چینل کو ہندوستان میں بلاک کردیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آئے ایک خط میں جسے خفیہ دستاویزبتایا جا رہا ہے، اس میں لکھا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف کی طبیعت خراب ہونے پرانہیں سی ایم ایچ راولپنڈی میں داخل کرانا پڑا ہے۔ کیا آپ نے یہ خط دیکھا ہے؟