Bharat Express DD Free Dish

Shehbaz Sharif

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے 40 منٹ تک انتظارکیا۔ وہ کرسی پرمسلسل بیٹھے رہے، لیکن پوتن نہیں آئے۔ کافی انتظار کے بعد وہ ولادیمیرپوتن-رجب طیب اردغان کی میٹنگ میں زبردستی گھس گئے، جس کے بعد ان کا ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔

کوئٹہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔ چمن ڈسٹرکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ایک خاتون سمیت تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاکستان کی حکومت عوامی احتجاج اور بڑھتے سیاسی دباؤ کے آگے جھک گئی ہے اور بالآخر سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کو ان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عمران خان گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی اس فون کال کا بڑا سفارتی اثر ہوا، جو پاکستان کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھا۔ درحقیقت وزیر اعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے اگلے ہی دن امریکہ نے پاکستان کو ایک بڑا جھٹکا دیا اور اس کا میزائل حاصل کرنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔

تاہم ہندوستان کا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت دہشت گردی اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی واپسی تک محدود ہونی چاہیے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک بس میں سوار9 افراد کوحملہ آوروں نے گولی مارکرہلاک کردیا۔ بس میں سوارتمام مسافروں کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ معلومات کے مطابق بس کلیٹا سے لاہور جا رہی تھی۔

پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی سے جڑے 27 یوٹیوب چینلوں کو بلاک کردیا ہے۔ نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی عرضی پر یہ کارروائی کی گئی۔ چینل مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں بغیرسنے ہی سزا دی گئی ہے۔

اس سال جنوری میں پاکستان کودوسال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن منتخب کیا گیا تھا۔ اسے 193 میں سے 182 ووٹ ملے۔ کونسل کی صدارت اس کے 15 رکن ممالک میں بدلتی رہتی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی شہباز شریف حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے ایک ہفتے میں اسلام آباد پرقبضہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے حکومت پرعوام کودبانے کا الزام لگایا اور2024 کے انتخابات کو جعلی قراردیا۔

بلوچ جنگجووں کے ان دعووں کے بعد پاکستان کی سیکورٹی اورخفیہ دونوں ایجنسیوں پر سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ بی ایل اے کے مطابق، انہوں نے بینک، پولیس اسٹیشن سمیت اہم سرکاری اداروں پرقبضہ کرلیا ہے۔