Bharat Express DD Free Dish

Political News

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ آدی شنکراچاریہ کا ادویت ویدانت کا نظریہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ نے روحانیت اور فلسفے کے ذریعے سماج کو ایک نئی سمت دی اور ان کی تعلیمات آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی رہیں گی۔ 

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ سول سروسز ڈے کے موقع پر ملک کے تمام سول افسران کو دلی مبارکباد۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور پوری ایمانداری کے ساتھ شہریوں کی خدمت میں سول افسران کا کردار قوم کی تعمیر میں انتہائی اہم ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’’انڈیا-کوریا ڈیجیٹل برج‘‘ بھی لانچ کیا جائے گا، جب کہ شپ بلڈنگ، اسٹیل، پائیدار ترقی اور دیگر شعبوں میں نئے ایم او یوز پر دستخط کیے جائیں گے۔ فلم، اینیمیشن اور گیمنگ کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی سرپرست دنیش چندر نے بھی سنسکرت کو قومی زبان کا درجہ دینے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ سنسکرت کو دنیا کی بنیادی زبان سمجھا جاتا ہے اور کئی ہندوستانی و عالمی زبانوں کی جڑیں اسی سے نکلتی ہیں۔

ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس دہائیوں سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی، لیکن وہ ایسے معاملات پر کسی سے لیکچر سننے کو تیار نہیں جنہیں حکمراں جماعت نہ سمجھتی ہے اور نہ ہی ان کا احترام کرتی ہے۔

حکومت نے اپوزیشن کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے جنوبی ریاستوں یا چھوٹی ریاستوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ حکومت کے مطابق جنوبی ریاستوں کی نمائندگی موجودہ 23.76 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 23.87 فیصد ہو جاتی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بھگوان پرشورام کے جنم اُتسو کے موقع پر وہ ملک کے تمام باشندوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی پرارتھنا کرتے ہیں۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی اور تقریباً 50 سال میں 15 مرتبہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، لیکن ان میں سے ایک بھی خاتون نہیں تھی۔ ان کے مطابق کئی مرد لیڈروں کو بار بار موقع دیا گیا، مگر خواتین کو قیادت میں جگہ نہیں ملی

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔