نئی دہلی : مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا ہے۔ جیسے جیسے 29 اپریل قریب آ رہا ہے، سیاسی بیان بازی میں شدت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اتوار کو باراسات میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کیا، جہاں ان کے جارحانہ تیور اور بھاری بھیڑ نے انتخابی ماحول کو مزید گرما دیا۔ریلی کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے امت شاہ نے ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا ہر گوشہ موجودہ حکومت کی ناکامیوں کی گواہی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بنگال کی معیشت کمزور ہو چکی ہے اور قانون و نظم کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ عوام کے دلوں میں ترنمول کانگریس کے خلاف شدید ناراضگی ہے اور اب انہیں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی سے امید ہے کہ وہ ریاست کے بگڑے حالات کو سنبھال سکتی ہے۔ انہوں نے پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے 110 سے زائد سیٹیں جیتنے کے اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلے میں بھی پارٹی کی کارکردگی مضبوط رہے گی اور مجموعی طور پر بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔
باراسات کی ریلی میں موجود ہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ اسے ممتا بنرجی کا مضبوط گڑھ کہتے ہیں، وہ آج کی عوامی شرکت دیکھ لیں، جواب خود مل جائے گا۔ریاست میں انتخابی تشدد کے خدشات پر امت شاہ نے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت گزر چکا جب غنڈے ڈرا دھمکا کر ووٹ ڈلواتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی شخص ایسے خطرات مول لینے کو تیار نہیں ہوگا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ حکومت بدلنے والی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 90 فیصد سے زائد ووٹنگ نے سب کو حیران کر دیا ہے، جو کہ آزادی کے بعد اب تک کا ریکارڈ ہے۔ بی جے پی اسے تبدیلی کی لہر قرار دے رہی ہے، جبکہ ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ ووٹنگ ان کے حق میں گئی ہے اور وہ دوبارہ اقتدار میں واپس آئیں گے۔ریلی کے اختتام پر امت شاہ نے وعدہ کیا کہ اگر بی جے پی حکومت بناتی ہے تو مغربی بنگال میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، صنعتوں کو فروغ ملے گا اور خواتین کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



