Bharat Express DD Free Dish

Political News

امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کی بات کر رہی ہے، لیکن "اگر مگر" اور "لیکن" جیسے الفاظ کے ذریعے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عمل درآمد کا نہیں بلکہ پورے بل کا مسئلہ ہے۔

رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس جے شنکر نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنوبی بھارت کے لوگوں کو یہ احساس ہو گیا کہ شمالی ریاستیں ان پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہیں تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی دادی نے انہیں خوف کا مقابلہ کرنا سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں خواتین سے بہت کچھ سیکھتا ہے، چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو یا کوئی اور کردار۔ انہوں نے کہا کہ "سچائی کڑوی ہوتی ہے،

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ جو پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دیتی، وہ خواتین کے حقوق کی بات کیسے کر سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن 21 ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں کتنی خواتین وزرائے اعلیٰ ہیں۔

وزیراعظم  مودی نے ملک کی "ناری شکتی" کو پرنام کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے اور اب انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس بل کی مخالفت کریں گے انہیں اس کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

وزیراعظم  مودی نے گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں پنچایت سطح پر ابھرنے والی خواتین قیادت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین اب صرف نمائندہ نہیں بلکہ بااثر لیڈر بن چکی ہیں۔ پہلے خواتین سمجھتی تھیں مگر بولتی نہیں تھیں،

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ بھی ویسا ہی اہم لمحہ ہے۔ اگر 25 سے 30 سال پہلے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن نافذ کر دیا جاتا، تو آج تک اس میں بہتری اور پختگی آ چکی ہوتی۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، جدت اور پائیداری کے شعبوں میں بھارت اور آسٹریا قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ دہلی میٹرو ہو یا اٹل ٹنل، آسٹریا کی سرنگ سازی کی مہارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس موقع پر پارٹی لیڈروں نے عہد کیا کہ وہ ڈاکٹر امبیڈکر کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھیں گے اور سماج کے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں تیز کریں گے۔ تقریب میں شریک کارکنان نے بھی ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریات کو عام کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عزم دہرایا۔