Bharat Express DD Free Dish

Political News

ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں نے  پرارتھنا کی اور وہاں رکھی مذہبی فن پاروں کا مشاہدہ کیا۔ روایتی سجاوٹ والے منڈپ میں ایک ساتھ کھڑے ہو کر دونوں رہنماؤں نے قومی یکجہتی کا خوبصورت پیغام دیا۔

وزیراعظم مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اڑیا اور انگریزی دونوں زبانوں میں مبارکبادی کارڈ شیئر کیے۔انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ " مہابشوباپانا ی سنکرانتی کی دل سے مبارکباد!"

وزیراعلیٰ تمانگ نے ان اہم منصوبوں کا بھی جائزہ لیا ، جن کا افتتاح یا سنگ بنیاد وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران رکھ سکتے ہیں۔ متعلقہ محکموں نے اپنی پیش رفت رپورٹ پیش کی،

وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ آئین کی توقع ہے اور اتراکھنڈ نے اس سمت میں قدم بڑھا کر ملک کو راستہ دکھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی–دہرادون ایکسپریس وے کے افتتاح کے ساتھ ترقی کی ایک نئی منزل حاصل ہوئی ہے۔

ریکھا گپتا نے مزید کہا کہ میں آج دہلی کی عوام سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ شخص جس نے ہمیشہ جمہوریت کی بے حرمتی کی، سرکاری ایجنسیوں پر انگلی اٹھائی اور جو بھی ان کے خلاف دو لفظ بولتا تھا، اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔

نئی حکومت کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالتے ہی وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ یہ وہ کلچر ہے جس نے برسوں سے عام آدمی اور حکمران طبقے کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا کر رکھی ہے۔

سادھوی نرنجن جیوتی نے کہا کہ 2023 میں نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ پیش کیا گیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے نشستیں محفوظ کی جائیں گی۔

وزیر اعظم مودی  نے مالی شمولیت کی اسکیموں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدرا یوجنا نے زمینی سطح پر خواتین کو بااختیار بنایا ہے اور انہیں آسانی سے قرض فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 فیصد سے زیادہ خواتین مستفیدین ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت کے کاروباری شعبے میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔

اس سے قبل راؤز ایونیو کورٹ کی خصوصی عدالت نے جنوری 2026 میں لالو یادو سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سخت ریمارکس دیتے ہوئے الزامات طے کیے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ زمین کے بدلے نوکری گھوٹالے میں لالو یادو،

عدالت نے علاقے کی خستہ حال صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت کے مطابق سڑک اتنی تنگ ہو چکی ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور اسکول بس جیسی ضروری خدمات کی گاڑیاں بھی آسانی سے گزر نہیں پاتیں، جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔