نئی دہلی :اسمرتی ایرانی نے اکھلیش یادو کے ’ساس بہو‘ والے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیریلز کی باتوں سے نکل کر پارلیمنٹ کے کام پر توجہ دیں اور خواتین کے حق میں اہم بل پاس کرانے میں کردار ادا کریں۔سابق مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما اسمرتی ایرانی نے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے اکھلیش یادو نے پارلیمنٹ میں انہیں یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیاست وراثت میں حاصل کرتے ہیں، وہ ان لوگوں پر تبصرہ کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے مقام حاصل کیا ہے۔
اسمرتی ایرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “سنا ہے آج اکھلیش جی نے پارلیمنٹ میں مجھے یاد کیا۔ اچھا ہے، جنہیں سیاست وراثت میں ملی وہ ان کو بھی یاد کرتے ہیں جو اپنی محنت سے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ کام کرنے والی عورت پر وہ تبصرہ کر رہے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی کوئی نوکری نہیں کی۔ سیریل سے ہٹ کر پارلیمنٹ پر توجہ دیں اور خواتین کے حق میں اہم بل پاس کرائیں۔”اس سے پہلے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی بل پر منعقد خصوصی اجلاس کے دوران اکھلیش یادو نے مرکز حکومت پر نشانہ سادھا تھا۔ اس دوران انہوں نے بغیر نام لیے اسمرتی ایرانی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ “وہ ساس بہو والی تو ہار گئی”، اور الزام لگایا کہ حکومت خواتین کو ان کا اصل حق دینے کے بجائے صرف نعرے بازی کر رہی ہے۔
اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ جو پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دیتی، وہ خواتین کے حقوق کی بات کیسے کر سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن 21 ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں کتنی خواتین وزرائے اعلیٰ ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی میں خواتین کی تعداد 10 فیصد سے بھی کم ہے اور پارلیمنٹ میں بھی خواتین کی نمائندگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی برس اقتدار میں رہنے کے باوجود ملک میں صنفی مساوات کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بیان بازی تیز ہو گئی ہے اور خواتین ریزرویشن بل پر بحث مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

