Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation: وزیراعظم نریندر مودی آج رات 8:30 بجے قوم سے کریں گے خطاب، کیا خواتین کے ریزرویشن پر ہوگی بات؟

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

نئی دہلی: ملک میں خواتین کے ریزرویشن بل پر جاری سیاسی ہنگامے کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی آج رات 8:30 بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے خطاب میں خواتین کے ریزرویشن بل اور حالیہ سیاسی صورتحال پر بات کر سکتے ہیں، قابل ذکر بات یہ ہےکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر موضوع واضح نہیں کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ لوک سبھا میں بل کا منظور نہ ہونا حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ خواتین کے حقوق کی مخالفت ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر خواتین کے خلاف رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔انہوں نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ اگر وہ واقعی خواتین کو ریزرویشن دینا چاہتے تھے تو گزشتہ 50 برسوں میں انہوں نے ایسا قدم کیوں نہیں اٹھایا۔ مودی کے مطابق یہ معاملہ اپوزیشن کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

وزیراعظم  مودی نے یہ بھی کہا کہ اس پیغام کو ملک کے ہر گاؤں تک پہنچایا جائے کہ اپوزیشن کی سوچ خواتین کے حوالے سے مثبت نہیں ہے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ عوام کے درمیان جا کر اس معاملے کی حقیقت واضح کریں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی کا یہ خطاب گزشتہ تمام خطابات سے مختلف ہو سکتا ہے، کیونکہ عام طور پر وہ ترقیاتی منصوبوں، اصلاحات یا قومی بحرانوں پر خطاب کرتے رہے ہیں، لیکن اس بار معاملہ ایک آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں منظور نہ ہونے سے جڑا ہوا ہے، جس نے سیاسی ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read