Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation

لوک سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی کاروباری لحاظ سے سرفہرست 500 لسٹڈ کمپنیوں میں خواتین کی اعلیٰ انتظامی عہدوں پر نمائندگی اب بھی انتہائی کم ہے۔ ان کمپنیوں میں صرف 9 خواتین چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEO) اور 25 خواتین مینیجنگ ڈائریکٹرز (MD) کے عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارت کارپوریٹ امور کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملیں بند ہو رہی ہیں، دوسری طرف دیسی بم بنانے کے کارخانے چل رہے ہیں، غنڈوں کو روزگار مل رہا ہے اور ٹی ایم سی کا سنڈیکیٹ پھیل رہا ہے۔ یہ ٹی ایم سی کا مہا جنگل راج ہے۔

وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے ہمیشہ قومی مفاد سب سے اوپر رہا ہے، لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے جماعتی مفاد قومی مفاد سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خواتین ریزرویشن بل جیسے اہم معاملے پر بھی سیاست کی گئی۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے احتجاج کے دوران کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے ملک کی نصف آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق بل بار بار پیش ہوتا ہے، لیکن کبھی اسے پھاڑ دیا جاتا ہے،

17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔ اس بل میں پارلیمنٹ کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی، جس میں 528 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔

اسمرتی ایرانی  نے الزام لگایا کہ کانگریس کی حکومتوں کے دور میں دہائیوں تک خواتین بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں، جب کہ بی جے پی حکومت میں خواتین کے لیے فلاحی اقدامات اور “جینڈر بجٹ فریم ورک” جیسے اقدامات شروع کیے گئے۔

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت نہ کرنا اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی ہے اور یہ رویہ خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے سیاسی نتائج اپوزیشن کو بھگتنے پڑیں گے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کو ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھیں اور خواتین کی بااختیار بنانے کی اس تاریخی کوشش میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

حکومت نے خواتین ریزرویشن بل پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جو ملک میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔