Bharat Express DD Free Dish

A Third Of The House: لوک سبھا کی ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کرنے کا مطالبہ، خواتین ریزرویشن اور حد بندی بل مزید مؤخر کیوں نہیں ہو سکتے؟

ڈاکٹر شالنی علی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی بل دوبارہ پیش کرنے چاہئیں، تاکہ لوک سبھا میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے کا راستہ ہموار ہو سکے۔

تحریر: ذاکٹر شالینی علی

خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر ہونے والے کئی اجلاسوں میں شرکت کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کا اختتام عموماً کیسے ہوتا ہے۔ کوئی اعداد و شمار پیش کرتا ہے، کوئی مذہبی یا ادبی حوالہ دیتا ہے، ہال میں تالیاں بجتی ہیں اور پھر پچھلی قطاروں میں بیٹھی خواتین اپنے گاؤں واپس چلی جاتی ہیں، جہاں آج بھی مرد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہینڈ پمپ کہاں لگایا جائے۔ اسی لیے مجھے اس معاملے میں مزید تاخیر ناقابل قبول محسوس ہوتی ہے۔ ستمبر 2023 میں ناری شکتی وندن ادھینیم تقریباً تمام جماعتوں کی حمایت سے منظور ہوا تھا۔ لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اس قانون کی وجہ سے ایک بھی خاتون لوک سبھا میں نہیں پہنچی۔ قانون موجود ہے، مگر خواتین کے لیے مخصوص نشستیں اب تک حقیقت نہیں بن سکیں۔ اس کی وجہ آئین کی دفعہ 334 اے ہے، جسے 106ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق خواتین کے لیے ریزرویشن کا نفاذ قانون کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری کی بنیاد پر حد بندی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ آسان الفاظ میں کہیں تو پہلے مردم شماری کا انتظار، پھر اس کے اعداد و شمار، اس کے بعد حد بندی کمیشن اور پھر لوک سبھا کی 543 اور اسمبلیوں کی تقریباً 4,000 نشستوں کی نئی حد بندی کا انتظار کرنا ہوگا۔ اس عمل کی مدت کا اندازہ لگانے والوں کے مطابق خواتین کے ریزرویشن کا عملی آغاز 2033 یا 2034 تک ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ 2023 میں اس قانون کی منظوری کے وقت پیدا ہونے والی بچی تب پانچویں جماعت میں پہنچ چکی ہوگی۔ اسی لیے میں حد بندی بل اور آئین (131ویں ترمیم) بل کی حمایت کرتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ انہیں اب پارلیمنٹ میں دوبارہ پیش کیا جانا چاہیے۔ اس ہفتے کی رپورٹس کے مطابق، مرکزی حکومت اکتوبر کے اختتام سے پہلے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہے۔ امید ہے کہ ایسا ہوگا۔

اپریل میں کیا ہوا تھا؟

16 اپریل 2026 کو حکومت نے تین بل ایک ساتھ پیش کیے تھے: 131ویں آئینی ترمیم، حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین میں ترمیم کا بل۔ منصوبہ یہ تھا کہ اگلی مردم شماری کا انتظار کرنے کے بجائے دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی کی جائے، لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کی جائے اور 2029 کے عام انتخابات تک تقریباً 273 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کردی جائیں۔ اگلے دن آئینی ترمیم کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ پڑے۔ حمایت میں واضح اکثریت کے باوجود آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کے بعد باقی دونوں بل واپس لے لیے گئے۔ ہر رکن پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہے۔ تاہم، میرے خیال میں ان بلوں کے حق میں دلائل، ان کی مخالفت میں پیش کیے جانے والے دلائل سے زیادہ مضبوط ہیں۔

1۔ خواتین کی نمائندگی خود بخود نہیں بڑھ رہی

اکثر کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پختہ ہونے کے ساتھ خواتین کی نمائندگی قدرتی طور پر بڑھ جائے گی، لیکن اعداد و شمار اس کی تائید نہیں کرتے۔

پہلی لوک سبھا میں خواتین کی نمائندگی تقریباً 5 فیصد تھی۔ تقریباً سات دہائیوں بعد 2019 میں یہ بڑھ کر 14.4 فیصد، یعنی 78 خواتین تک پہنچی۔ لیکن 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر 74 رہ گئی، جو 13.6 فیصد بنتی ہے۔ تقریباً 800 خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا، مگر دس میں سے ایک سے بھی کم کامیاب ہوئیں۔ ریاستی سطح پر صورت حال اس سے بھی کمزور ہے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کے مطابق، 4,123 ارکان اسمبلی میں صرف 390 خواتین ہیں، یعنی تقریباً 9 فیصد۔ اس کے مقابلے میں دنیا کی قومی پارلیمانوں میں خواتین کی اوسط نمائندگی تقریباً 27 فیصد ہے۔ ستر سال تک نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ محض حوصلہ افزائی کافی نہیں۔ اس کے لیے نظام میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔

2۔ پنچایتوں میں ریزرویشن کا تجربہ کامیاب رہا

خواتین کے ریزرویشن کے فوائد سمجھنے کے لیے ہمیں دوسرے ممالک کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ بھارت میں 1992-93 کی 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم کے ذریعے پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی تھیں۔ مرکزی حکومت کے اپریل 2026 میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اب پنچایتوں کے منتخب نمائندوں میں خواتین کی تعداد 49.7 فیصد ہے۔ یعنی 24.41 لاکھ نمائندوں میں تقریباً 12.14 لاکھ خواتین ہیں۔ بہار نے 2006 میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن نافذ کیا تھا، جس کے بعد کئی دوسری ریاستوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس تبدیلی کے اثرات صرف نمائندگی تک محدود نہیں رہے۔ ماہرین معاشیات راگھبیندر چٹوپادھیائے اور ایستھر ڈوفلو نے مغربی بنگال اور راجستھان کی ان پنچایتوں کا مطالعہ کیا جہاں سربراہی خواتین کے لیے مخصوص تھی۔ ان کی تحقیق 2004 میں جریدے اکانومیٹریکا میں شائع ہوئی۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ خواتین کی سربراہی والی پنچایتوں میں اخراجات ان ضروریات کی طرف زیادہ ہوئے جن کا مطالبہ گاؤں کی خواتین کرتی تھیں۔ پینے کا پانی ان کی ترجیحات میں سرفہرست تھا۔ گاؤں کی خاتون سربراہ بخوبی جانتی ہے کہ کنویں یا پانی کے مقام تک پہنچنے میں کتنی دشواری ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بعض جگہوں پر خواتین نمائندوں کے شوہر ان کے اختیارات استعمال کرتے رہے ہیں، جسے عام طور پر ’’سرپنچ پتی‘‘ کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ بہت سی خواتین نے خود فیصلے کرنا شروع کردیا۔ ان کی بیٹیوں نے بھی دفتری تختیوں پر خواتین کے نام دیکھے۔ سماجی طور پر معمول سمجھی جانے والی چیزوں میں یہ تبدیلی اہم ہے۔

3۔ نشستیں بڑھانے سے کسی کو اپنی نشست نہیں کھونی پڑے گی

1996 میں ایچ ڈی دیوے گوڑا حکومت کے دور سے لے کر 2023 تک خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ تقریباً 27 سال تک زیر التوا رہا۔ اس کی ایک اہم وجہ موجودہ مرد ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت تھی۔ اگر 543 نشستوں والی لوک سبھا میں 181 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کردی جائیں تو موجودہ ارکان میں سے کئی مردوں کو اپنی نشستیں چھوڑنی پڑیں گی۔ سیاست دانوں کے لیے اپنے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈالنے والے فیصلے کی حمایت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حد بندی بل کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح خواتین کو نئی نشستیں مل سکتی ہیں اور موجودہ ارکان کو اپنی نشستیں چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس سے ریزرویشن کی مخالفت کم کرنے کا امکان ہے۔

4۔ حد بندی بھی طویل عرصے سے زیر التوا ہے

خواتین کے ریزرویشن سے الگ ہوکر بھی نشستوں کی حد بندی پر لگی پابندی پر نظرثانی ضروری ہے۔ 1976 سے نشستوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری پر مبنی ہے، جبکہ 2001 میں اس پابندی کی مدت مزید بڑھا دی گئی تھی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے اپریل میں لوک سبھا کو بتایا تھا کہ اب 127 انتخابی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی آبادی کی ضروریات کو ایک رکن پارلیمنٹ کے لیے پوری طرح سمجھنا اور ان کا جواب دینا مشکل ہے۔ ایک شخص، ایک ووٹ اور یکساں قدر جمہوری نظام کا بنیادی اصول ہے۔ لیکن گزشتہ نصف صدی میں حلقوں میں ووٹروں کی تعداد کے فرق نے اس اصول کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کو ایک ساتھ آگے بڑھانا غیر مناسب نہیں، بلکہ دونوں مسائل کے حل کا مشترکہ راستہ ہو سکتا ہے۔

5۔ نشستوں کی گردش سے مواقع کی منصفانہ تقسیم

بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ مخصوص نشستیں مستقل طور پر چند حلقوں تک محدود ہوجائیں گی۔ مجوزہ بلوں میں نشستوں کی گردش کا انتظام ہے، جس کے تحت حد بندی کے ہر دور کے بعد خواتین کے لیے مخصوص حلقے تبدیل ہوں گے۔ اس سے مختلف علاقوں کی خواتین کو انتخاب لڑنے کے مواقع مل سکتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے لیے مخصوص حلقوں میں صرف رسمی امیدوار کھڑے کرنے کا رجحان بھی محدود ہوسکتا ہے۔

6۔ ایس سی اور ایس ٹی خواتین کے لیے بھی ریزرویشن

مجوزہ ریزرویشن میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے لیے بھی حصہ مختص کرنے کا انتظام ہے۔ ان طبقات کی خواتین کو قانون ساز اداروں میں طویل عرصے سے کم نمائندگی حاصل رہی ہے۔ اس انتظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خواتین کے ریزرویشن سے صرف ان خاندانوں کی خواتین کو فائدہ نہ پہنچے جو پہلے ہی سیاسی اور سماجی طاقت رکھتے ہیں۔

7۔ دوسرے ممالک کے تجربات بھی اہم ہیں

روانڈا نے 2003 میں اپنے آئین میں خواتین کے لیے 30 فیصد ریزرویشن کا انتظام کیا تھا۔ آج وہاں ایوان زیریں میں خواتین کی نمائندگی 60 فیصد سے زیادہ ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ میکسیکو اور سینیگال نے بھی مساوی نمائندگی کے قوانین کے ذریعے ایک انتخابی دور میں نمایاں پیش رفت کی۔ ان ممالک کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واضح اور قابلِ نفاذ تاریخ طے کرنا اہم ہے۔ تاریخ کے بغیر ریزرویشن کا وعدہ محض وعدہ رہ جاتا ہے، پالیسی نہیں بنتا۔

اعتراضات اور ان کے جواب

جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہونے کا خدشہ

یہ اس معاملے پر سب سے اہم اعتراض ہے۔ کیرالہ، تمل ناڈو، کرناٹک اور آندھرا پردیش نے شمالی ریاستوں کے مقابلے میں کئی دہائیاں پہلے شرح پیدائش کم کرلی تھی۔ انہیں خدشہ ہے کہ آبادی کی بنیاد پر نئی حد بندی کرنے سے انہیں نقصان ہوگا۔

اس کا حل تاخیر میں نہیں، بلکہ قانون کی تیاری میں ہے۔ چونکہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز ہے، اس لیے کسی ریاست کو اپنی موجودہ نشست کھونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ قانون میں یہ ضمانت بھی شامل کرسکتی ہے کہ ہر ریاست کو کم از کم ایک مقررہ شرح سے نشستوں میں اضافہ ملے اور کسی ریاست کی مجموعی نمائندگی کا تناسب موجودہ سطح سے نیچے نہ گرے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) سمیت کئی جماعتوں نے ایسی شرائط کے ساتھ بل کی حمایت کرنے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے پر بات چیت ہونی چاہیے، لیکن اس کی وجہ سے خواتین کے ریزرویشن کو مزید مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری طرف، اگر ایک حلقے میں 20 لاکھ سے زیادہ ووٹر ہوں اور دوسرے میں اس سے بہت کم، تو بڑے حلقے کے ووٹر کی نمائندگی نسبتاً کم ہوجاتی ہے۔ 1971 کی مردم شماری پر مبنی نظام کو ہمیشہ برقرار رکھنا وفاقی نظام کا تحفظ نہیں، بلکہ ایک دوسرے قسم کے عدم توازن کو جاری رکھنا ہوگا۔

او بی سی خواتین کے لیے الگ کوٹے کا مطالبہ

دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی خواتین کے لیے الگ کوٹے کا مطالبہ بھی اہم ہے۔ لیکن موجودہ آئینی صورت حال کو سمجھنا ضروری ہے۔ آئین کی دفعہ 330 کے تحت لوک سبھا میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے نشستیں مخصوص ہیں۔ پارلیمنٹ میں مردوں کے لیے بھی او بی سی ریزرویشن موجود نہیں ہے۔

اس لیے او بی سی خواتین کے لیے ذیلی کوٹہ متعارف کرانے کے لیے الگ آئینی ترمیم اور قابلِ اعتماد ذات پر مبنی اعداد و شمار درکار ہوں گے۔

مردم شماری 2027 میں ذات سے متعلق معلومات جمع کرنے کی تیاری ہے۔ 1931 کے بعد پہلی مرتبہ یہ معلومات ملک گیر سطح پر جمع کی جائیں گی، جبکہ بیشتر بھارت میں آبادی کی گنتی فروری 2027 میں ہونے کی توقع ہے۔

مناسب راستہ یہ ہوگا کہ خواتین کے ریزرویشن کو ابھی منظور کیا جائے اور او بی سی خواتین کی نمائندگی کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد مقررہ مدت میں اس معاملے کا جائزہ لینے کا عہد کیا جائے۔ اس دوران سیاسی جماعتیں او بی سی خواتین کو انتخابی ٹکٹ دے سکتی ہیں۔

پنچایتوں میں اس کی مثال پہلے سے موجود ہے۔ 73ویں آئینی ترمیم کے تحت ریاستوں کو خواتین کے ریزرویشن کے علاوہ پسماندہ طبقات کے لیے بھی ریزرویشن دینے کی اجازت ہے، اور کم از کم 17 ریاستیں ایسا کرچکی ہیں۔

موجودہ 543 نشستوں پر ہی ریزرویشن کیوں نہیں؟

ناقدین کا یہ سب سے مضبوط اعتراض ہے کہ اگر مقصد جلد ریزرویشن نافذ کرنا ہے تو حد بندی کا انتظار کیوں کیا جائے؟

لیکن 543 نشستوں میں سے ایک تہائی مخصوص کرنے کا مطلب ہوگا کہ 181 موجودہ ارکان کو اپنی نشستیں چھوڑنی پڑیں گی۔ 1996 سے 2010 کے درمیان خواتین کے ریزرویشن سے متعلق بلوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہی مخالفت رہی۔

اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ کون سی 181 نشستیں مخصوص ہوں گی اور ان کی گردش کیسے ہوگی۔ اگر حکومت خود یہ فیصلہ کرے تو اس پر سیاسی جانبداری کے الزامات لگ سکتے ہیں اور معاملہ عدالتوں میں پہنچ سکتا ہے۔

حد بندی کمیشن ایک آزاد ادارے کے طور پر یہ فیصلے کرنے کے لیے موجود ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلوں کا مقصد 2029 کے عام انتخابات تک ریزرویشن نافذ کرنے کا راستہ کھولنا ہے۔ یہ غیر ضروری تاخیر نہیں، بلکہ ایسی کوشش ہے جسے منظور کرانا اور قانونی طور پر برقرار رکھنا ممکن ہو۔

بل میں ترمیم کے ذریعے خدشات دور کیے جائیں

ان تمام اعتراضات کو پارلیمنٹ میں ترامیم کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی بل مسترد کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔

یہ دلیل قبول نہیں کی جاسکتی کہ چونکہ موجودہ منصوبہ مکمل طور پر مثالی نہیں، اس لیے خواتین مزید ایک دہائی انتظار کریں۔ قانون کے لیے 1996 سے 2023 تک انتظار کیا گیا۔ اب اس کے نفاذ کے لیے 2023 سے 2034 تک انتظار نہیں ہونا چاہیے۔

تاخیر کی سیاست

اس معاملے میں ایک واضح رجحان نظر آتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے اور اپنے انتخابی منشور میں اس کا ذکر کرتی ہے، لیکن جب بل پارلیمنٹ میں آتا ہے تو کوئی نئی شرط سامنے آجاتی ہے۔

2010 میں راجیہ سبھا نے بل منظور کیا تھا، لیکن لوک سبھا میں اس پر ووٹنگ نہیں ہوئی۔ 2023 میں قانون منظور تو ہوا، لیکن اس کے نفاذ کو مردم شماری اور حد بندی سے مشروط کردیا گیا۔ 2026 میں اسے جلد نافذ کرنے کی کوشش مطلوبہ اکثریت سے صرف چند ووٹ پیچھے رہ گئی۔

اپریل میں بل کے خلاف ووٹ دینے والے ہر رکن سے میرا ایک سوال ہے: اگر یہ بل نہیں تو پھر کون سا بل اور کب؟ اگر آپ اسی اصلاح کا بہتر متبادل چاہتے ہیں تو ترامیم پیش کیجیے۔ اور اگر جواب ’’بعد میں‘‘ ہے تو اپنے حلقے کی خواتین کو صاف صاف بتائیے۔

میرا مطالبہ کیا ہے؟

131ویں آئینی ترمیم اور حد بندی بل کو آئندہ خصوصی یا سرمائی اجلاس میں دوبارہ پیش کیا جائے۔

چھوٹی شرح سے آبادی بڑھنے والی ریاستوں کے تحفظات کو قانون میں شامل کرکے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

2029 کے عام انتخابات کو خواتین کے ریزرویشن کے تحت پہلا انتخاب مقرر کیا جائے اور مزید شرائط نہ لگائی جائیں۔

او بی سی خواتین کی نمائندگی کے معاملے کا مقررہ مدت میں پارلیمانی جائزہ لینے کا عہد کیا جائے۔

ایک اور وعدہ نہیں، واضح تاریخ چاہیے

بھارت کی تقریباً نصف ووٹر آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں خواتین کا ووٹنگ تناسب مردوں کے برابر یا بعض صورتوں میں اس سے زیادہ رہا ہے۔ خواتین پارلیمنٹ میں اپنی جگہ خیرات کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے جمہوری حق کے تحت مانگ رہی ہیں۔

قانون پہلے ہی ریزرویشن کا راستہ دکھا چکا ہے۔ اب پارلیمنٹ کو اس کے نفاذ کی تاریخ طے کرنی ہوگی۔

میں آئندہ پارلیمانی اجلاس پر گہری نظر رکھوں گی۔ ملک کی لاکھوں خواتین بھی ایسا ہی کریں گی، کیونکہ وہ یہ وعدہ پہلے بھی کئی بار سن چکی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read