نئی دہلی : نئی دہلی میں موہن بھاگوت، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ ہیں، انہوں نے سنسکرت بھارتی کے مرکزی دفتر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر متعدد لیڈروں اور ماہرین تعلیم نے سنسکرت زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے عوام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب کے دوران بی جے پی کے سینئرلیڈر مرلی منوہر جوشی نے نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں زیادہ تر کام سنسکرت میں ہونے لگیں تو یہ بھارت کے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئین سازی کے دوران ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سنسکرت کو قومی زبان بنانے کی کوشش کی تھی۔ جوشی کے مطابق سنسکرت صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی قدیم وراثت ہے۔
اس موقع پر وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی سرپرست دنیش چندر نے بھی سنسکرت کو قومی زبان کا درجہ دینے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ سنسکرت کو دنیا کی بنیادی زبان سمجھا جاتا ہے اور کئی ہندوستانی و عالمی زبانوں کی جڑیں اسی سے نکلتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سنسکرت بھارتی کا مقصد دنیا بھر میں سنسکرت کو فروغ دینا ہے اور ویدوں سمیت قدیم علمی سرمایہ اسی زبان میں محفوظ ہے۔دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما نے کہا کہ دہلی میں سنسکرت بھارتی کے مرکزی دفتر کا افتتاح ہونا خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کئی زبانیں سنسکرت سے نکلی ہیں اور اب لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی سنسکرت کا استعمال بڑھا رہے ہیں، جو باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دفتر سے سنسکرت کے فروغ میں بڑا تعاون ملے گا۔
اس موقع پر مرکزی سنسکرت یونیورسٹی کے وائس چانسلر سرینواس ورکھیڑی نے کہا کہ سنسکرت صرف زبان نہیں بلکہ ہماری علمی روایت کا ذریعہ ہے اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔اسی طرح لال بہادر شاستری نیشنل سنسکرت یونیورسٹی کے وائس چانسلر مرلی منوہر پاٹھک نے کہا کہ تعلیم میں سنسکرت کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ اگر مادی ترقی کے ساتھ اخلاقی اقدار کو محفوظ نہ رکھا جائے تو انسانیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
