Bharat Express DD Free Dish

Political News

سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت نے واضح پیغام دیا کہ وہ واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے متاثر ہو کر اپنے طے شدہ سفارتی اصولوں میں غیر معمولی نرمی یا خصوصی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس دورے کے دوران روبیو نے دہلی کے علاوہ جے پور، کولکاتا اور آگرہ کا بھی دورہ کیا،

وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر پوسٹ کرتے ہوئے راجہ رام موہن رائے کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں کوٹی کوٹی  نمسکار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ راجہ رام موہن رائے نے اس دور میں برہمو سماج کی بنیاد رکھی جب معاشرہ مختلف فرسودہ رسم و رواج اور سماجی برائیوں میں جکڑا ہوا تھا۔

وزیر اعظم مودی اور جارجیا میلونی نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ دونوں لیڈروں  نے اٹالین اسپیس ایجنسی اور اسرو(آئی ایس آر او) کے درمیان جاری تعاون کو سراہا اور تجارتی خلائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

گوتھنبرگ میں منعقد ایک خصوصی تقریب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کو سویڈن کے اعلیٰ ترین اعزاز “رائل آرڈر آف پولر اسٹار کمانڈر گرینڈ کراس” سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز کسی بھی ملک کے وزیر اعظم یا سربراہِ حکومت کو دیا جانے والا سویڈن کا سب سے بڑا سول اعزاز مانا جاتا ہے۔

عراقی آئین کے مطابق کسی بھی نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کابینہ کے نصف سے زائد وزراء کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ الزیدی کی حکومت میں کل 23 وزارتیں شامل ہونی چاہئیں، تاہم کئی اہم قلمدانوں پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ابھی جاری ہیں،

سکھ دیو تھاپر 15 مئی 1907 کو پنجاب کے لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن ہی سے وہ برطانوی راج کے ظلم و ستم کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ وہ صرف ایک بہادر مجاہد نہیں بلکہ ایک گہرے سوچ رکھنے والے نوجوان تھے،

یو اے ای کے بعد وزیر اعظم مودی نیدرلینڈ روانہ ہوں گے۔ سال 2017 کے بعد یہ ان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ وہاں وہ شاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما سے ملاقات کریں گے، جبکہ ڈچ قیادت کے ساتھ مستقبل کی ٹیکنالوجی،

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بابا بندہ سنگھ بہادر نے کسانوں کو متحد کر ظلم اور استحصال کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے مغلوں کو شکست دے کر خودداری، جرات اور مذہب کے تحفظ کا ایسا پیغام دیا جو آج بھی لوگوں کو حوصلہ دیتا ہے۔

جیسے ہی کیرتھنا اسٹیج کے قریب پہنچیں، پرنسپل سیکریٹری سرینواسن نے ان سے ہاتھ کے اشارے سے لازمی ’’الیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ طلب کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  خاتون وزیر یہ دستاویز پیش نہ کر سکیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی،

یہ ان گنت عظیم شخصیات کو یاد کرنے کا وقت ہے جو ظلم کے سامنے ڈٹے رہے۔ لکولیشا اور سوما سرمن تھے، جنہوں نے پربھاس کو فلسفے کے ایک عظیم مرکز میں تبدیل کیا۔ ولبھی کے چکرورتی مہاراجہ دھراسینا چہارم نے صدیوں پہلے وہاں دوسرا مندر تعمیر کیا تھا۔