اتیشی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے الزامات کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں بی جے پی کئی بار عام آدمی پارٹی کے خاتمے کی پیش گوئی کر چکی ہے، لیکن ہر بار یہ دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر چھ ماہ بعد بی جے پی یہ اعلان کرتی ہے کہ اروند کیجریوال کی سیاست ختم ہو چکی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عام آدمی پارٹی کے سات ارکانِ پارلیمنٹ کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس پر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے طنز کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب کیجریوال کا صرف “کور گروپ” باقی رہ گیا ہے اور باقی تمام “اچھے لوگ” پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔
اس کے جواب میں آتشی نے کہا کہ عام آدمی پارٹی آج بھی ملک کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی سیاسی جماعتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے پارٹی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف دس برسوں میں پارٹی نے دہلی میں تین بار حکومت بنائی اور پنجاب میں پہلی ہی بار الیکشن لڑ کر اہم مقام حاصل کیا، جب کہ دوسری بار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ گجرات ، گوا اور جموں وکشمیر میں بھی پارٹی نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نتائج اس بات کی علامت ہیں کہ ملک کے عوام ایک متبادل سیاست کی تلاش میں ہیں اور عام آدمی پارٹی اسی خلا کو پُر کر رہی ہے۔ آتشی کے مطابق عوام روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک نئے ماڈل کی طرف دیکھ رہے ہیں، جہاں شفافیت اور عوامی فلاح کو ترجیح دی جاتی ہے۔بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے آتشی نے الزام لگایا کہ حالیہ عدالتی احکامات نے ان کے خلاف مبینہ سازشوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک نے دیکھا کہ کس طرح اروند کیجریوال کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب بی جے پی تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی کا غلط استعمال کر رہی ہے تاکہ سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



