Bharat Express DD Free Dish

AAP

سی بی آئی نے 27 فروری کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، درگیش پاٹھک سمیت تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقی ایجنسی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ مقدمے میں ایسے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

کیجریوال نے کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر یہ واضح کریں کہ سال 2023 سے پہلے تیار ہونے والی پیٹرول گاڑیوں میں ای-20 پٹرول کا استعمال مکمل طور پر محفوظ ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر اس ایندھن کے استعمال سے گاڑی کی مائلیج کم ہو جاتی ہے یا کسی پرزے کو نقصان پہنچتا ہے تو کیا کمپنیاں کسٹمرس کو معاوضہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ انڈیا بلاک کی میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، سونیا گاندھی، مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، تیجسوی یادو، اکھلیش یادو، سپریا سولے، سی ایم عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت متعدد اپوزیشن لیڈر شریک ہوئے۔

کس طرح اروند کیجریوال کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ آتشی نے دعویٰ کیا کہ اب بی جے پی تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی کا غلط استعمال کر رہی ہے تاکہ سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

راگھو چڈھا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی سے پہلے بھی کئی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد وابستہ رہے، مگر بعد میں انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ سب لوگ بھی غلط ہو سکتے ہیں؟

راگھو چڈھا کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ناراضگی دیکھنے میں آئی۔ صرف 24 گھنٹوں میں انسٹاگرام پر ان کے تقریباً 10 لاکھ فالوورز کم ہو گئے اور #UnfollowRaghavChadha ٹرینڈ کرنے لگا۔

بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل سمیت دیگر لیڈروں کا خیرمقدم کیا اور انہیں مٹھائی کھلا کر پارٹی میں شامل کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر سینئر قائدین بھی موجود تھے اور انہوں نے نئے شامل ہونے والے اراکین کو مبارکباد دی۔

راگھو چڈھا اور اشوک مِتّل سمیت ‘عآپ’ کے دو تہائی ارکانِ پارلیمنٹ نے بغاوت کرتے ہوئے پارٹی قیادت کو بڑا جھٹکا دیا۔ اس پیش رفت سے اروند کیجریوال کی سیاسی گرفت کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے اور راجیہ سبھا کے سیاسی توازن میں بھی تبدیلی آ گئی ہے۔

عام آدمی پارٹی نے حال ہی میں راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں نائب قائد کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے عوامی طور پر الزام لگایا کہ ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

راگھو چڈھا نے الزام لگایا کہ اب ان کی اپنی پارٹی ہی انہیں ان مدعے کو اٹھانے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عام آدمی کے نام پر سیاست کرنے والی پارٹی کیوں عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔