دہلی میں نئی حکومت کا پہلا اسمبلی اجلاس ہنگامہ خیز ہونے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن کو کارنر کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شیش محل گھوٹالہ، شراب گھوٹالہ، یمنا صفائی، بدعنوانی اور سی اے جی رپورٹ جیسے مسائل پر اپوزیشن کو گھیرے گی۔
بی جے پی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے ہر سوال کا پوری تیاری کے ساتھ جواب دیا جائے گا، تاکہ اپوزیشن کو کسی بھی معاملے پر حاوی ہونے کا موقع نہ ملے۔ حکومت سیاسی اور انتظامی ناکامیوں کے لیے اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے، تاکہ عوام پر بی جے پی کی گرفت مضبوط ہو۔
اپوزیشن نے بھی حکومت کو گھیرنے کا پلان بنا لیا
اپوزیشن بھی اس اجلاس میں حکومت کو گھیرنے کی پوری تیاری کر رہی ہے۔ مہیلا سمن راشی، بی جے پی کی مبینہ خلاف ورزی اور جھوٹے وعدوں جیسے مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے انتخابات کے دوران عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے لیکن اب وہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
اپوزیشن یہ الزام بھی لگا سکتی ہے کہ بی جے پی نے خواتین کی حفاظت اور بہبود کے جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک صرف کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر بھی حکومت سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
تین روزہ اجلاس میں زوردار بحث کا امکان ہے
نئی حکومت کے پہلے تین روزہ اسمبلی اجلاس میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان زبردست ٹکراؤدیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی کے ساتھ ایوان میں اتریں گی اور ایک دوسرے کو گھیرنے کی پوری کوشش کریں گی۔
دہلی کی سیاست پچھلے کچھ سالوں سے کافی گرم ہے۔ بی جے پی شراب گھوٹالہ اور یمنا کی صفائی جیسے مسائل کو لے کر عام آدمی پارٹی کی حکومت پر مسلسل حملہ کر رہی ہے۔ اب اقتدار کی تبدیلی کے بعد بی جے پی کو امید ہے کہ وہ ان مسائل کو دوبارہ اٹھا کر اپوزیشن کو بیک فٹ پر کھڑا کر سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اپوزیشن عوامی مسائل اٹھا کر حکومت کو جواب دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس ہنگامہ خیز اجلاس میں کون کس پر غالب آتا ہے اور عوام کے لیے کیا نئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

