Amanatullah Khan: عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو جامعہ نگر میں پولیس ٹیم پر مبینہ حملے کے الزام میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے میں راحت ملی ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ سے پیشگی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ تاہم دہلی پولیس نے امانت اللہ خان کی پیشگی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ قبل ازیں عدالت نے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو گرفتاری سے راحت دی تھی۔
راؤز ایونیو کی عدالت نے امانت اللہ خان کی 25 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی۔ اس معاملے میں عدالت نے امانت اللہ خان سے دہلی پولیس کی تحقیقات میں تعاون کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ جب بھی کیس سے متعلق تفتیشی افسر انہیں تفتیش کے لیے بلائے گا، انہیں جانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ امانت اللہ خان عدالت کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔
امانت اللہ خان پر یہ ہیں الزامات
دراصل، امانت اللہ خان پر جامعہ نگر میں پولیس ٹیم پر حملے کی قیادت کرنے اور ایک ملزم کو حراست سے فرار ہونے میں مدد دینے کا الزام ہے۔ سی بی آئی کے خصوصی جج جتیندر سنگھ نے پیر کو سماعت کے دوران ایم ایل اے کو ایک دن کی گرفتاری سے راحت دی تھی۔ استغاثہ اور دفاع کے حتمی دلائل عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں- دہلی اسمبلی میں ہائی وولٹیج ڈرامہ، اسپیکر نے اپوزیشن کے 21 اراکین اسمبلی کو 3 دنوں کے لئے کیا معطل، سیشن میں 2 دنوں کا اضافہ
اوکھلا میں درج کی گئی تھی ایف آئی آر
دہلی پولیس نے 10 فروری کو پیش آئے اس واقعہ کے سلسلے میں اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہوں نے قتل کی کوشش کے ملزم شہباز خان کو حراست سے آزاد کرانے میں ہجوم کی قیادت کی۔ پولیس کرائم برانچ کی ٹیم شہباز خان کو گرفتار کرنے گئی تو امانت اللہ خان اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور پولیس کو دھکے دینا شروع کر دیے۔ اسی دوران شہباز خان فرار ہو گیا۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


