Bharat Express DD Free Dish

Delhi Assembly Special Session: دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس:سی ایم ریکھا گپتا خواتین کے ریزرویشن بل پر اپوزیشن کے خلاف مذمتی تحریک کریں گی پیش

یہ بل دراصل ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے تحت نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

نئی دہلی :دہلی اسمبلی  میں آج ایک اہم خصوصی اجلاس سیاسی ہلچل کے درمیان منعقد ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں بلائے گئے اس اجلاس کا بنیادی مقصد خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون، یعنی ناری شکتی وندن ایکٹ کے نفاذ میں درپیش رکاوٹوں پر غور کرنا اور اپوزیشن کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنا ہے۔دہلی حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق بل مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا اور منظور نہیں ہو پایا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل میں رکاوٹ ڈالی اور اس اہم بل کی مخالفت کر کے خواتین کے ساتھ ناانصافی کی۔

خصوصی اجلاس کا اہم ایجنڈا: اپوزیشن کو نشانہ بنانا

 خواتین کے ریزرویشن سے متعلق بل لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کی کمی کی وجہ سے پاس نہیں ہو سکا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپوزیشن پر خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے اور خواتین کے خلاف ‘خیانت’ کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سیشن کے دوران اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک مذمتی تحریک پیش کی جائے گی۔ اجلاس کی کارروائی صبح 11 بجے شروع ہوگی۔ ابتدائی مرحلے میں اراکین اسمبلی اسپیکر کی اجازت سے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل اور عوامی مفاد کے معاملات ایوان میں پیش کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ، جو وزارتِ خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، مالی سال 2024-2025 کے لیے دہلی حکومت کے مالیاتی اور اخراجاتی گوشوارے ایوان میں پیش کریں گی۔ اجلاس کے اختتام پر وہ قاعدہ 90 کے تحت ایک سرکاری قرارداد پیش کریں گی، جس میں ناری شکتی وندن ایکٹ کو پاس نہ ہونے دینے پر اپوزیشن کی مذمت کی جائے گی۔

یہ بل دراصل ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے تحت نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کا منصوبہ تھا کہ اس قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کر دیا جائے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوک سبھا میں ووٹنگ کے دوران بل کو 298 ووٹ حمایت میں اور 230 ووٹ مخالفت میں ملے، جو دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹوں سے کم تھے، جس کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت بغیر ذات پر مبنی مردم شماری کے حلقہ بندی (ڈیلِمیٹیشن) کرنا چاہتی ہے، جو کہ غیر منصفانہ ہوگا۔سیاسی مبصرین کے مطابق دہلی اسمبلی کا یہ خصوصی اجلاس نہ صرف خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم ہے بلکہ اس سے آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا بھی امکان ہے۔ یہ بحث اس بات کا تعین کرے گی کہ خواتین کی نمائندگی کے معاملے پر سیاسی جماعتیں کس حد تک سنجیدہ ہیں اور مستقبل میں اس بل کو دوبارہ پیش کرنے کے امکانات کیا ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read