PM Modi Inaugurates ‘Viveka Smarak’ in Mysuru: وزیر اعظم مودی نے میسورو میں ’وویکا اسمارک کا کیا افتتاح، سوامی وویکانند کے 1892 کے تاریخی دورے کی یادگار
رام کرشن آشرم، اوول گراؤنڈ، میسورو ایئرپورٹ اور وزیر اعظم کے پورے روٹ پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ وی وی آئی پی نقل و حرکت کو بلا رکاوٹ یقینی بنانے کے لیے شہر کی 12 اہم سڑکوں پر عارضی طور پر ٹریفک بند رکھا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر آمد و رفت پر پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔
Prime Minister Narendra Modi: آندھرا پردیش میں ’وکست بھارت‘ کا ترقی کا انجن بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم مودی نے یاد دلایا کہ انہوں نے گزشتہ انتخابات کے دوران آندھرا پردیش کی تیز رفتار ترقی کے لیے ’’ڈبل انجن حکومت‘‘ کے حق میں عوام سے مینڈیٹ طلب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز اور ریاست کے درمیان بہتر تال میل کے باعث ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہو رہا ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح،
PM Modi to inaugurate Swami Vivekananda Cultural Youth Centre: وزیر اعظم مودی آج میسور میں سوامی وویکانند کلچرل یوتھ سینٹر کا کریں گے افتتاح
سوامی تیاگیشورانند نے مزید کہا کہ ادارہ ’’آتمنو موکشارتھم جگت ہتائے چ‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے نوجوانوں کو نہ صرف روحانی ترقی کی طرف راغب کرے گا بلکہ انہیں انسانیت کی خدمت اور معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی تیار کرے گا۔ ان کے مطابق خود کی اصلاح اور دنیا کی خدمت، دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مقاصد ہیں۔
Acharya Mahamandaleshwar Swami Kailashanand Giri Ji Maharaj: آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاشانند گری کا پیغام: جمہوری حقوق کا استعمال شائستگی، ضبط اور قومی مفاد کے جذبے سے کیا جائے
آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاشانند گری جی مہاراج نے کہا کہ کسی بھی اختلاف یا احتجاج کے نام پر کسی آئینی عہدے پر فائز شخصیت، خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی یا ان کے اہلِ خانہ کے خلاف عوامی سطح پر غیر مہذب، توہین آمیز یا نازیبا زبان استعمال کرنا نہ صرف ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کے منافی ہے بلکہ جمہوری روایات اور سناتن دھرم کی اعلیٰ اقدار سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ ،
CJP protest at Delhi’s Jantar Mantar: میں بہت شرمندہ ہوں…وزیر اعظم مودی کو نازیبا الفاظ کہنے والی 15 سالہ لڑکی نے عوامی معافی
معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔
PM Modi to visit Andhra Pradesh and Karnataka today: وزیر اعظم نریندر مودی آج آندھرا پردیش اور کرناٹک کے دورے پر، متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے
وزیر اعظم وشاکھاپٹنم میں اے ایس آئی پی سیمی کنڈکٹر منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ یہ آندھرا پردیش کا پہلا سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ مرکز ہوگا، جسے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت منظوری دی گئی ہے۔
PM Kisan Samman Nidhi Extension: پی ایم کسان اسکیم میں توسیع، کسانوں کو 2030 تک راحت
مرکزی حکومت نے پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) اسکیم کو 2030-31 تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
Khelo India Scheme: کھیلو انڈیا اسکیم کو نئی شکل، قومی کھیل فیڈریشنوں کو مزید مالی امداد ملے گی، کابینہ کی منظوری
مرکزی کابینہ نے 27-2026 سے 31-2030 تک کی مدت کے لیے نئی ’کھیلو انڈیا‘ اسکیم کی منظوری دے دی ہے۔
BJP MP Dr. Dinesh Sharma: اینٹی پیپر لیک قانون پر بی جے پی کا دفاع، ڈاکٹر دنیش شرما کا اپوزیشن پر سخت حملہ
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ملک کے نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان باشعور، باصلاحیت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نسل ڈیجیٹل انڈیا، میک اِن انڈیا، اسٹارٹ اپ اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے جدید تصورات کو سمجھتی ہے اور اپنی محنت کے بل پر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے باصلاحیت نوجوان اپوزیشن کے بہکاوے میں آسانی سے آنے والے نہیں ہیں۔واضح رہے کہ حکومت نے امتحانات میں ہونے والی دھاندلی،
Nishu viral video update: اس ملک میں گالی دینا کب سے جرم بن گیا؟ طلبہ کے خلاف ایف آئی آر پر سی جے پی کے سوربھ داس برہم
سوربھ داس نے اپنی تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں موجود کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق قتل، عصمت دری اور ڈکیتی جیسے مقدمات کا سامنا کرنے والے عوامی نمائندے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف اس شدت سے کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ چند نازیبا الفاظ بولنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے میں پولیس مختلف ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے





