PM Modi Meets Singapore PM Wong: وزیر اعظم مودی نے دہلی میں سنگاپور کے ہم منصب لارنس وونگ کے ساتھ کی دو طرفہ ملاقات، تعلقات کی مضبوطی پر کیا تبادلۂ خیال
دونوں رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امور کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر تبادلۂ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امور کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر تبادلۂ خیال کیا۔
PM Modi & PM Wong inaugurates JN Port: وزیراعظم نریندرمودی اور سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے جے این پورٹ پی ایس اے ممبئی ٹرمینل فیز-ٹو کا کیا افتتاح
کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، تجارت، سرمایہ کاری، فِن ٹیک، صحت، مہارت سازی اور پائیداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
Stronger India-Singapore Strategic Partnership: وزیراعظم نریندر مودی اور سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی جامع اور نتیجہ خیز بات چیت، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت اور ثقافتی روابط میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم وونگ نے کہا کہ سنگاپور بھارت کی اسکل ڈیولپمنٹ کی پہل کی حمایت جاری رکھے گا اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ منصوبوں میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔
PM Modi’s Strategic Move: ٹرمپ ٹیرف کے باوجود وزیراعظم مودی کی حکمتِ عملی سے کسانوں کا تحفظ اور مصالحہ جات کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ
بھارت کے مصالحہ جات 200 سے زائد ممالک میں، کسانوں کی آمدنی اور برآمدات میں نمایاں ترقی۔ ٹرمپ کے ٹیرف کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت زرعی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری، زرعی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے، اور برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔
Cabinet Approves ₹1500 Cr Scheme for Mineral Recycling: وزیر اعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے اہم معدنیات کی ری سائیکلنگ کے لیے 1500 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری
حکومت کو امید ہے کہ اس اسکیم سے 270 کلوٹن سالانہ ری سائیکلنگ صلاحیت پیدا ہو گی، جس سے 40 کلوٹن اہم معدنیات ہر سال حاصل ہوں گی۔
PM Modi’s Har Ghar Swadeshi, Ghar-Ghar Swadeshi: ہر گھر سوَدیشی، گھر گھر سوَدیشی: وزیراعظم مودی کا نیا عزم شہریوں کو بااختیار بنائے گا، گیارہ سالہ قیادت میں خود انحصاری کی سمت بھارت کی بڑی پیش رفت
’’کسی قوم کے وقار کا سب سے بڑا پیمانہ اس کی خود انحصاری ہے‘‘۔ 2022 میں ’’ہر گھر ترنگا‘‘ مہم نے عوام میں حب الوطنی کی لہر پیدا کی اور اب ’’ہر گھر سوَدیشی، گھر گھر سوَدیشی‘‘ مہم شہریوں میں سوَدیشی جذبہ پیدا کر کے وکست بھارت کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دے گی۔
Putin hails India as economic giant: چین میں پوتن نے ہندوستان کو بتایا ’اکونامک جائنٹ‘، کہا- ملٹی پولر ورلڈ میں کسی کا تسلط نہیں
ریزرو بینک آف انڈیا نے پہلی سہ ماہی میں 6.5 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 6.7 فیصد، تیسری میں 6.6 فیصد اور چوتھی میں 6.3 فیصد کے ساتھ 2025-26 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.5 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ ماہرین اقتصادیات خبردار کرتے ہیں کہ نئے امریکی ٹیرف ٹیکسٹائل جیسے شعبوں کے لیے نقطہ نظر کو تاریک کر سکتے ہیں، لیکن فی الحال اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بھارت اب بھی عالمی ترقی کی قیادت کر رہا ہے۔
GST Cuts Bring Festive Cheer To Shopping Basket: جی ایس ٹی میں کٹوتی سے خریداری میں رونق، پی ایم مودی نے اصلاحات کا کیا خیر مقدم
جی ایس ٹی کے چار سلیبوں کو دو سلیبوں میں یکجا کر کے – 12 فیصد اور 28 فیصد کی شرحوں کو ختم کرکے اور صرف 5 فیصد اور 18 فیصد کو برقرار رکھتے ہوئے جی ایس ٹی کونسل نے 2017 میں ٹیکس متعارف کرائے جانے کے بعد سے صارفین کے لیے سب سے زیادہ موافقت پذیروں میں سے ایک کو لاگو کیا ہے۔
PM Modi interacts with CEOs at SEMICON India 2025: وزیر اعظم مودی کی عالمی سیمی کنڈکٹر سی ای اوز سے ملاقات، سیمیکون انڈیا 2025 میں بھارت کو عالمی ہب بنانے کے امکانات پر اعتماد کا اظہار
وزیراعظم نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تیل بلیک گولڈ تھا، اب چپس ڈیجیٹل ڈائمنڈ ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ برسوں میں یہ 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس مارکیٹ میں اہم حصہ حاصل کرے گا۔
Delighted to meet German Foreign Minister: وزیراعظم نریندر مودی کی جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال مکمل، تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو
جرمن وزیر خارجہ ویڈفل نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت اور جرمنی نے سلامتی و دفاع، معیشت و تجارت اور ہنرمند افرادی قوت جیسے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے مثبت پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے یوکرین میں جنگ بندی کی بھارتی اپیل کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام یورپ کے لیے اہم ہے۔





