نیپال ان دنوں ایک بڑے سیاسی تغیر سے گزر رہا ہے، جہاں جنریشن-زی تحریک کے نتیجے میں سابق پی ایم کے پی شرما اولی کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اس غیر متوقع سیاسی ہلچل کے بعد سوشیلا کارکی کو عبوری پی ایم مقرر کیا گیا ہے۔ سوشیلا کارکی نہ صرف نیپال کی پہلی خاتون پی ایم بنی ہیں ،بلکہ انہیں ایک ایسے وقت میں قیادت ملی ہے ،جب ملک داخلی خلفشار، عوامی غصے، اور سیاسی بے یقینی کے دور سے گزر رہا ہے۔
پی ایم نریندر مودی کی مبارکباد اور بھارت کا رددمل
नेपाल की अंतरिम सरकार की प्रधानमंत्री के रूप में पद ग्रहण करने पर माननीय सुशीला कार्की जी को हार्दिक शुभकामनाएं। नेपाल के भाई-बहनों की शांति, प्रगति और समृद्धि के लिए भारत पूरी तरह से प्रतिबद्ध है।
— Narendra Modi (@narendramodi) September 13, 2025
بھارتی پی ایم نریندر مودی نے اس موقع پر سوشیلا کارکی کو عبوری پی ایم بننے پر دلی مبارکباد دی اور اپنے پیغام میں لکھا:”نیپال کی عبوری حکومت کی پی ایم کے طور پرعہدہ سنبھالنے پر سوشیلا کارکی کو دلی نیک خواہشات۔ نیپال کے بھائی بہنوں کی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھارت مکمل طور پر پُرعزم ہے۔”یہ پیغام مودی نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر شیئر کیا، جو بھارت کی نیپال کے ساتھ قریبی تعلقات اور جمہوری استحکام کی حمایت کا مظہر ہے۔
بھارت کا سفارتی مؤقف: دو طرفہ تعاون کی یقین دہانی
بھارت کے وزارت خارجہ (MEA) نے بھی اپنے بیان میں نیپال میں سیاسی تبدیلی کا خیر مقدم کیا۔ بیان میں کہا گیا: ہم سوشیلا کارکی کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ اس سے ملک میں امن اور استحکام کو فروغ ملے گا۔بھارتی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایک قریبی ہمسایہ، جمہوری شراکت دار اور ترقیاتی ساتھی کے طور پر بھارت نیپال کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود اور علاقائی خوشحالی کے لیے مل کر کام کرتا رہے گا۔
جنریشن زی تحریک: ایک نسل کی بیداری یا سیاسی ہنگامہ؟
نیپال میں یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ نوجوانوں کی جانب سے چلائی جانے والی جنریشن زی تحریک نے حکومت کے خلاف ایک زبردست عوامی ردِعمل کی شکل اختیار کر لی تھی۔ تحریک کی شروعات 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے خلاف ہوئی، مگر جلد ہی یہ غصہ ایک وسیع تر سیاسی بغاوت میں تبدیل ہو گیا۔ اس دوران نہ صرف پُرتشدد مظاہرے ہوئے بلکہ کئی وزراء کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا، اور ملک میں عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو تحلیل کر کے عام انتخابات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
سوشیلا کارکی: نیپال کی پہلی خاتون پی ایم
سوشیلا کارکی نیپال کی تاریخ کی پہلی خاتون ہیں جنہیں پی ایم کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے قبل وہ سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بھی رہ چکی ہیں اور ایک ایماندار، سخت گیر اور عوام دوست شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی تقرری کو نیپال میں جمہوریت اور صنفی برابری کے حوالے سے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔نیپال میں جاری تبدیلی صرف ایک حکومت کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی جمہوری بیداری کی علامت ہے۔ بھارت، جو ہمیشہ نیپال کا قریبی ساتھی رہا ہے، اس نازک دور میں اپنی سفارتی سنجیدگی، انسانی ہمدردی اور ترقیاتی تعاون کے ساتھ نیپال کے ساتھ کھڑا ہے۔یہ وقت نیپال کے لیے ایک نئے آغاز کا موقع ہے۔ سوشیلا کارکی کی قیادت اور بھارت کی حمایت سے اگر سیاسی استحکام قائم ہوتا ہے تو یہ نہ صرف نیپال بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے امن اور خوشحالی کا پیغام ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


