Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وکرَم پروسیسر بھارت کی "آتم نربھر بھارت" وژن کی عکاسی کرتا ہے اور ملکی سطح پر سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی خودمختاری کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔

 وزیراعظم مودی نے کہا کہ بہارمیں آرجے ڈی-کانگریس کے اسٹیج سے ان کی ماں کوگالیاں دی گئیں، جوصرف ان کی ماں کی توہین نہیں بلکہ پورے ملک کی ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کی توہین ہے۔

پی ایم مودی نے 21ویں صدی میں سیمی کنڈکٹرز کی اہمیت کا موازنہ پچھلی صدی میں تیل کے کردار سے کیا۔ پی ایم مودی نے کہا، ’’پچھلی صدی تیل سے بنی تھی اور دنیا کی تقدیر تیل کے کنوؤں سے جڑی ہوئی تھی۔ لیکن 21ویں صدی میں طاقت چھوٹی چپ میں مرکوز ہے۔ چھوٹی ہونے کے باوجود یہ چپ دنیا کی ترقی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی طاقت رکھتی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلی پون کلیان کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔ انہوں نے پون کلیان کی صحت مند زندگی کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ پون کلیان نے لاتعداد لوگوں کے دل و دماغ پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں، جیویکا کے سیلف ہیلپ گروپس سے منسلک خواتین میں انٹرپرینیورشپ میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں کئی چھوٹے کاروباری ادارے اور پیداواری کمپنیاں قائم ہوئی ہیں۔ حالانکہ، خواتین کاروباریوں کو اکثر مائیکرو فنانس اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو 18 فیصد سے 24 فیصد تک زیادہ شرح سود وصول کرتے ہیں۔

بہار بھر میں تقریباً 20 لاکھ خواتین افتتاحی تقریب کو لائیو دیکھیں گی، جو اس پہل کے نچلی سطح پر بڑے پیمانے پر اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ جیویکا ندھی کوآپریٹیو یونین کو بہار میں خواتین کو بااختیار بنانے اور کوآپریٹو طاقت پر مبنی ایک جامع اور خود انحصار دیہی معیشت کی تعمیر کی سمت ایک تاریخی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ریاستی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے متعدد ایجنسیاں متحرک کر دی ہیں۔ این ڈی آر ایف کی 20 ٹیمیں، فوج، بحریہ اور فضائیہ اور انجینئر یونٹس تعینات ہیں۔ 35 سے زائد ہیلی کاپٹرز، 114 کشتیاں اور ایک ریاستی ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔ بارڈر سکیورٹی فورس کی ٹیمیں بھی متاثرہ سرحدی علاقوں میں تعینات ہیں۔

چین میں ایس سی او اجلاس اور عالمی امور پر گفتگو، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، دہشت گردی کی مخالفت اور رابطے کے فروغ پر دیا زور، جاپان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم

کانفرنس میں 20,750 سے زائد شرکاء شرکت کریں گے، جن میں 48 ممالک کے 2,500 سے زیادہ نمائندے، 150 سے زائد مقررین اور 350 سے زائد نمائش کنندگان موجود ہوں گے۔

جیویکا نِدھی کے قیام کا مقصد جیویکا سے وابستہ کمیونٹی کے اراکین کو سستے شرح سود پر مالی وسائل تک آسان اورحسب استطاعت رسائی فراہم کرنا ہے۔