وزیر داخلہ امت شاہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ۔ (فائل فوٹو)
زیر اعظم نریندر مودی 12 ستمبر کو شام 4:30 بجے نئی دہلی میں واقع وگیان بھون میں ’’گیان بھارتم‘‘ پر بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وہ ’’گیان بھارتم پورٹل‘‘ کا بھی آغاز کریں گے جو مخطوطات کے ڈیجیٹائزیشن ، تحفظ اور عوام تک رسائی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک وقف ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ وہ اس موقع پر حاضرین سے خطاب بھی کریں گے۔
یہ کانفرنس 11 سے 13 ستمبر تک ’’مخطوطات کے ورثے کے ذریعے ہندوستان کی علمی میراث کی بازیابی‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہوگی۔ یہ کانفرنس سرکردہ اسکالرز، تحفظ پسندوں، (کنزرویشنسٹ) تکنیکی ماہرین اور پالیسی ماہرین کو یکجا کرنے کا کام کرے گی، تاکہ وہ ہندوستان کی بے مثال مخطوطات کی دولت کو زندہ کرنے کے راستوں پر غور و خوض کریں اور اسے عالمی علمی مکالمے کے مرکز میں رکھیں۔
اس میں ایک نمائش بھی شامل ہوگی جس میں مخطوطات کے تحفظ، ڈیجیٹائزیشن ٹیکنالوجیز، میٹا ڈیٹا کے معیارات، قانونی فریم ورک، ثقافتی سفارت کاری اور قدیم رسم الخط کی تشریح جیسے اہم شعبوں پر نایاب مخطوطات اور علمی پیشکشوں کی نمائش کی جائے گی۔ اس موقع پر حکومت 400 کروڑ روپے کے ’’گیان بھارتم مشن‘‘ کا بھی افتتاح کرے گی، جس کا بجٹ 2025-26 میں اعلان کیا گیا تھا۔ یہ مشن نسخہ جات کی حفاظت اور تحقیق کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کرے گا جس کا ماڈل آثار قدیمہ سروے (ASI) کی طرز پر ہوگا۔
وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے دہلی اعلامیے پر دستخط
دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 13 ستمبر کو اس کانفرنس کے اختتامی اجلاس کی صدارت کریں گے جہاں دہلی اعلامیہ کو اپنایا جائے گا۔ اس کانفرنس میں تقریباً 1100 شرکاء شامل ہوں گے جن میں اسکالرز، ماہرین، محققین اور نسخہ جات کے محافظ شامل ہیں۔ آٹھ ورکنگ گروپس قدیم خطوط جیسے سندھی، گلگت اور شنکھا کی تشریح، دستاویزات کی بہتری، میٹا ڈیٹا معیارات اور جدید ڈیجیٹائزیشن ٹیکنالوجیز پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس کانفرنس میں ’’گیان سیتو‘‘ اے آئی چیلنج بھی منعقد ہوگا جس میں 40 انٹریز اور 10 منتخب آلات پیش کیے جائیں گے جو نسخہ جات کی تشریح اور کیٹلاگنگ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


