Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

پی ایم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ سوامی وویکانند کا خطاب ایک تاریخی لمحہ تھا۔ انہوں نے لکھا:سوامی وویکانند کی جانب سے 11 ستمبر 1893 کو شکاگو میں دیا گیا خطاب ایک تاریخی لمحہ مانا جاتا ہے۔

مودی نے کہا کہ سنگھ کا "سرسنگھ چالک" بننا صرف ایک تنظیمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مقدس اعتماد ہے، جو نسل در نسل دوراندیش قیادت نے نبھایا ہے۔ موہن بھاگوت نے نہ صرف اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بلکہ اپنی ذاتی قابلیت، فکری گہرائی اور شفاف قیادت سے اسے مزید مضبوط بنایا۔

یہ ملاقات مارچ 2025 میں پی ایم مودی کے ماریشس کے دورے میں کی گئی مثبت پیش رفت کا تسلسل ہے، جس میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو اعلیٰ سطحی اسٹریٹیجک پارٹنرشپ میں تبدیل کیا تھا۔

کمیٹی نے بتایا کہ یہ منصوبہ بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے 5 اضلاع کو کور کرے گا اور بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 177 کلومیٹر کا اضافہ کرے گا۔ یہ منصوبہ ملک بھر سے آنے والے یاتریوں اور سیاحوں کو دیوگھر (بابا بیدیا ناتھ دھام) اور تارا پیٹھ (شکتی پیٹھ) جیسے اہم مقامات تک بہتر ریل کنیکٹیویٹی فراہم کرے گا۔

بھاگوت جی ہمیشہ سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے نظریہ میں پختہ  یقین رکھتے ہیں اور وہ  اس بات میں بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان کی کثیرتہذیبی تنوع اور وطن کی مختلف ثقافتوں اور روایات کی تقریبات  ہمارے ملک کا حصہ ہیں۔

کانگریس کی حکمرانی کے دوران سیمی کنڈکٹرز اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں مواقع ضائع ہوئے۔ اس کے برعکس، مودی حکومت کی ’میک ان انڈیا‘ اور ’انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن‘ جیسی مہمات نے بھارت کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنایا۔ کانگریس کی مخالفت اکثر سیاسی نمائش کے لیے ہوتی ہے، جبکہ مودی حکومت شمولیتی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کرتی ہے۔

پی ایم نریندر مودی نے لکھا:"بھارت اور امریکہ قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہماری تجارتی گفتگو بھارت-امریکہ شراکت داری کی بے شمار امکانات کو اجاگر کرنے کا راستہ ہموار کرے گی۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے پیغامات میں کہا:"ہماچل پردیش اور پنجاب کے دورے سے واپسی کے بعد، کابینہ کی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں نیپال کے حالات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس قدم کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھتا نظر آ رہا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹرز کی کل تعداد 788 تھی، 7 آسامیاں خالی ہونے کے باعث ووٹرز کی موثر تعداد 781 رہی، منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 768 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ کاسٹ کیا، جب کہ 13 اراکین غیر حاضر رہے۔ غیر حاضر رہنے والوں میں بی آر ایس کے 4، بی جے ڈی کے 7، شرومنی اکالی دل سے 1 اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ شامل تھے۔