Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پی ایم مودی نے ہندوستان کی سوچ کو تین ستونوں پر مبنی قرار دیا - سیکورٹی، رابطہ اور مواقع۔

چین کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے وزیراعظم، روس و چین کے صدور سے ملاقات، دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات پر زور۔ چینی صدر، حکومت اور عوام کا کامیاب اجلاس کے انعقاد پر اظہار تشکر۔

پی ایم مودی نے دونوں ممالک کے درمیان مستقل رابطے، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور قریبی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ صدر پوتن کی میزبانی کے منتظر ہیں، جو دسمبر میں بھارت کے دورے پر آئیں گے۔

وزیرِاعظم مودی نے یوکرین تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عالمی و علاقائی اقدامات کی بھارت حمایت کرتا ہے اور جنگ کے فوری خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر پوتن نے وزیرِ اعظم مودی کا انتظار بھی کیا تاکہ وہ ان کے ہمراہ SCO کانفرنس کے مقام سے دو طرفہ ملاقات کے ہوٹل تک جائیں، جو کانفرنس ہال سے کچھ فاصلے پر واقع تھا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چین کے تیانجن میں منعقدہ SCO سمٹ میں رکن ممالک نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے’’ووٹرادھیکاریاترا‘‘ کی اختتامی ریلی میں بڑا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مہادیوپورہ میں’ووٹ چوری‘ کی حقیقت کوبے نقاب کیا تو ہم نے ایٹم بم گرایا، لیکن اب ہائیڈروجن بم آنے والا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈروجن بم کے بعد مودی جی اس ملک کو منہ نہیں دکھا سکیں گے۔

ایس سی او اجلاس میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام رکن ممالک متحد ہیں۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک نے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک یا گروہ کی طرف سے دہشت گردی کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

چین کے شہر تیانجن میں دنیا کی 11 بڑی طاقتوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں پی ایم مودی، صدر شی جن پنگ اور صدر پوتن ایک دوسرے کے قریب کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

پی ایم نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ حملہ صرف بھارت کی روح پر نہیں ہوا تھا، بلکہ ہر اُس ملک اور شخص کے لیے ایک چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔