بھارت کے پی ایم نریندر مودی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کو ان کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے پیغام میں پی ایم نے موہن بھاگوت کی طویل عمر اور بہتر صحت کی پراتھنا کی اور ان کے ہمہ جہت کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
“وسودھیو کٹمبکم” کے اصول پر مبنی زندگی: مودی
“Inspired by the principle of Vasudhaiva Kutumbakam, Shri Mohan Bhagwat Ji has dedicated his entire life to societal transformation and strengthening the spirit of harmony and fraternity.”
On the special occasion of his 75th birthday, penned a few thoughts on Mohan Ji and his…
— Narendra Modi (@narendramodi) September 11, 2025
پی ایم نریندر مودی نے کہا کہ موہن بھاگوت نے “وسودھیو کٹمبکم” یعنی “پوری دنیا ایک خاندان ہے” کے اصول کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا، اور معاشرتی ہم آہنگی، بھائی چارے اور یکجہتی کو فروغ دینے میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
یادگار دن: سوامی وویکانند سے لے کر 9/11 تک
اپنے بلاگ میں پی ایم نے لکھا کہ 11 ستمبر کی تاریخ کئی یادوں سے جڑی ہے۔ 1893 میں اسی دن سوامی وویکانند نے شکاگو میں عالمی بھائی چارے کا پیغام دیا تھا، جبکہ 2001 میں اسی دن دنیا کو 9/11 دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دن موہن بھاگوت جی کی سالگرہ بھی ہے، جو RSS کے “سرسنگھ چالک” کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
گہرے خاندانی تعلقات کا اظہار
مودی نے لکھا کہ ان کا بھاگوت خاندان سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ انہوں نے موہن بھاگوت کے والد، مرحوم مدھوکر راو بھاگوت کے ساتھ قریبی طور پر کام کیا۔ مدھوکر راو نے اپنی جوانی کا طویل عرصہ گجرات میں سنگھ کے کام کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے میں صرف کیا۔ مودی نے لکھا کہ مدھوکر راو نے اپنے بیٹے کو بھی قوم کی خدمت کے لیے تیار کیا، جو آج موہن بھاگوت کے روپ میں سنگھ کے سربراہ بن کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موہن بھاگوت کی زندگی تحریک کا ذریعہ
پی ایم کے مطابق، موہن بھاگوت کی زندگی مسلسل تحریک کا ذریعہ رہی ہے۔ وہ 1970 کی دہائی میں “پرچارک” بنے اور ایمرجنسی کے دور میں کانگریس حکومت کے خلاف تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ بعدازاں انہوں نے مہاراشٹرا اور بہار کے دیہی علاقوں میں خدمات انجام دیں اور پھر 2000 میں RSS کے “سرکاریہ واہ” بنے۔ 2009 میں وہ “سرسنگھ چالک” مقرر ہوئے۔
تنظیمی اور فکری قیادت
مودی نے کہا کہ سنگھ کا “سرسنگھ چالک” بننا صرف ایک تنظیمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مقدس اعتماد ہے، جو نسل در نسل دوراندیش قیادت نے نبھایا ہے۔ موہن بھاگوت نے نہ صرف اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بلکہ اپنی ذاتی قابلیت، فکری گہرائی اور شفاف قیادت سے اسے مزید مضبوط بنایا۔
نوجوانوں سے گہرا تعلق
پی ایم نے بھاگوت کے نوجوانوں سے تعلق کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو سنگھ سے جوڑا۔ ان کے دورِ قیادت میں سنگھ نے متعدد اہم تبدیلیاں کیں، جن میں وردی کی تبدیلی اور تربیتی نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔
کورونا وبا کے دوران خدمات
مودی نے لکھا کہ کورونا وبا کے دوران موہن بھاگوت نے رضاکاروں کو محفوظ طریقے سے سماجی خدمت کے لیے متحرک کیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا اور طبی کیمپوں کے ذریعے ضرورت مندوں تک مدد پہنچائی۔
’پنج پری ورتن‘ کی حکمت عملی
پی ایم نے بتایا کہ بھاگوت نے ’پنج پریورتن‘ (پانچ تبدیلیوں) کا نظریہ پیش کیا، جس میں خود شناسی، سماجی ہم آہنگی، شہری شائستگی، خاندانی بیداری اور ماحولیات جیسے نکات شامل ہیں۔ ان کے مطابق، ان اصولوں کے ذریعے قوم کی تشکیل ممکن ہے۔
قیادت میں گہرائی اور نرمی
پی ایم نے کہا کہ بھاگوت نہایت نرم گو اور سنجیدہ شخصیت ہیں۔ ان میں دوسروں کو سننے کی غیرمعمولی صلاحیت ہے، جو ان کی قیادت کو گہرائی اور وقار عطا کرتی ہے۔ وہ ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے مضبوط حامی ہیں اور بھارت کی ثقافتی تنوع کو نہایت احترام سے اپناتے ہیں۔
قومی تحریکوں میں بھرپور حصہ
مودی نے کہا کہ ’سوچھ بھارت مشن‘ اور ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ جیسے قومی پروگراموں میں بھاگوت نے سنگھ کو متحرک کیا۔ وہ خودانحصاری اور پائیدار طرزِ زندگی کے حامی ہیں۔
سنگھ کی صد سالہ تقریبات اور تاریخی موقع
سال 2025 میں RSS اپنی صد سالہ تقریبات منانے جا رہا ہے، اور اس سال دسہرہ، گاندھی جینتی، لال بہادر شاستری جینتی اور سنگھ کا صد سالہ جشن ایک ہی دن آ رہے ہیں۔ یہ موقع سنگھ کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ مودی نے کہا کہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں موہن بھاگوت جیسے دوراندیش اور محنتی لیڈر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

