Bharat Express DD Free Dish

Narendra Modi, Prime Minister of India




Bharat Express News Network


مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسی شاندار شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں جنہوں نے روحانی جستجو، ثقافتی بیداری اور کئی دہائیوں پر محیط تنظیمی خدمات کو یکجا کیا۔

یہ ان گنت عظیم شخصیات کو یاد کرنے کا وقت ہے جو ظلم کے سامنے ڈٹے رہے۔ لکولیشا اور سوما سرمن تھے، جنہوں نے پربھاس کو فلسفے کے ایک عظیم مرکز میں تبدیل کیا۔ ولبھی کے چکرورتی مہاراجہ دھراسینا چہارم نے صدیوں پہلے وہاں دوسرا مندر تعمیر کیا تھا۔

مہاتما پھولے ایک عظیم مصلح تھے۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی اخلاقی جرات، مسلسل جستجو اور سماجی بہبود کے لیے غیر متزلزل عزم کی مثال ہے۔ مہاتما پھولے کو ان کے قائم کردہ اداروں اور ان کی زیر قیادت تحریکوں کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔اسی کے ساتھ، ہماری تہذیبی ارتقاء کے سفر میں ان کی شراکت اس امید میں پنہاں ہے جو انہوں نے پیدا کی، اس اعتماد میں جو انہوں نے دلوں میں جگایا، اور اس قوت میں جو ان کے افکار آج بھی ملک بھر کے لاکھوں لوگوں کو تحریک عطا کر رہے ہیں۔

سال 2026 سومناتھ مندر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عظیم عبادت گاہ پر پہلے حملے کو ایک ہزار سال مکمل ہو رہے ہیں۔ جنوری 1026 میں محمود غزنوی نے اس مندر پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد تشدد اور بربریت کے ذریعے عقیدے اور تہذیب کی ایک عظیم علامت کو مٹانا تھا۔

ملہوترا جی کی سب سے بڑی خوبیوں میں سے ایک ادارہ ساز کے طور پر ان کا کردار تھا۔ وہ ان سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے آر ایس ایس سے متعلق کئی اداروں کی بنیاد رکھی اور ان آبیاری کی۔ ان کی کوششوں سے کئی ثقافتی،

’’یہ ہماری نسل کے سویم سیوکوں کی خوش نصیبی ہے کہ ہمیں آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کا ایسا عظیم موقع دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میں اس موقع پر قوم کی خدمت کے عہد کو اپنی زندگی کے مرکز میں رکھنے والے لاکھوں سویم سیوکوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔‘‘

مودی نے کہا کہ سنگھ کا "سرسنگھ چالک" بننا صرف ایک تنظیمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مقدس اعتماد ہے، جو نسل در نسل دوراندیش قیادت نے نبھایا ہے۔ موہن بھاگوت نے نہ صرف اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بلکہ اپنی ذاتی قابلیت، فکری گہرائی اور شفاف قیادت سے اسے مزید مضبوط بنایا۔

بھاگوت جی ہمیشہ سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے نظریہ میں پختہ  یقین رکھتے ہیں اور وہ  اس بات میں بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان کی کثیرتہذیبی تنوع اور وطن کی مختلف ثقافتوں اور روایات کی تقریبات  ہمارے ملک کا حصہ ہیں۔

بھوپین دا نے ہمیں جو کچھ دیا، وہ صرف موسیقی نہیں تھا — ان کے گیت جذبات سے لبریز تھے، راگوں سے آگے کی بات کرتے تھے۔ وہ محض ایک گلوکار نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ کئی نسلیں ان کے گیتوں کو سن کر بڑی ہوئیں، جن کے ہر لفظ میں رحم، سماجی انصاف، اتحاد اور تعلق کا جذبہ موجود تھا۔

ہر سال ہم دیویانگ دیوس پر ملک بھر میں کئی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ مجھے اب بھی یاد ہے، 9 سال پہلے اسی دن ہم نے قابل رسائی ہندوستان مہم شروع کی تھی۔ اس مہم نے 9 سالوں میں جس طرح سے دیویانگ افراد کو بااختیار بنایا ہے اس سے مجھے بہت اطمینان ملا ہے۔