سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان کوانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام پورجیل سے باہرنکلتے ہی حراست میں لے لیا ہے۔ ای ڈی کی ٹیم پیرا ملٹری فورسیزکے ساتھ پہنچی تھی۔ جانچ ایجنسی کی تقریباً تین گاڑیاں رام پورجیل کے باہرکھڑی تھیں۔ وہیں، جب جیل سے رہا ہوکرباہرنکلے اعظم خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب کہنے کے لئے بچا ہی کیا ہے؟ میں کیا کہوں؟ قانون توجیسے ختم ہی ہوگیا ہے۔ کیا مسلمان ہونے کی یہی سزا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہماری غلطی بس اتنی تھی، کہ ایک مسلمان نے یونیورسٹی بنائی۔ یہی ہمارا گناہ ہے۔ ہم نے بچوں کے لئے اسکول بنوائے۔ کیا یہی ہمارا گناہ ہے؟
Rampur, Uttar Pradesh: After being released from Rampur jail, Samajwadi Party leader Azam Khan says, “What is there left to say? What can I say? The law has ceased to exist. This is the punishment for being a Muslim? Our mistake was that a university was built by a Muslim. That is our crime. We built schools for children. Is that our crime?”
— IANS (@ians_india) October 31, 2026
حامیوں کا ہاتھ ہلاکرادا کیا شکریہ
جیل کے باہرایک ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے، جس میں وہ رام پورجیل سے باہرآتے ہیں، تبھی انہیں ای ڈی حراست میں لے جاتی ہے۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے وہ موقع پر موجود حامیوں کی طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے نظرآئے اورآسمان کی طرف اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس کے بعد انہیں گاڑی میں بٹھاکرای ڈی کی ٹیم لے گئی۔ اس دوران آس پاس بڑی تعداد میں پولیس اور سیکورٹی اہلکارنظرآئے۔
Rampur, Uttar Pradesh: Shortly after being released from Rampur Jail, SP leader Azam Khan was taken away by the ED. https://t.co/O7PNwaQjqX
— IANS (@ians_india) October 31, 2026
الہ آباد ہائی کورٹ نے دی تھی راحت
اعظم خان کو ای ڈی نے جیل کے باہر ایک درج معاملے میں گرفتارکیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے دو پین کارڈ معاملے میں سابق مرکزی وزیر محمد اعظم خان، ان کے بیٹے اورسابق رکن اسمبلی عبداللہ اعظم خان کو راحت دی تھی اورسزا معطل کردی تھی۔ عدالت نے اس سے پہلے ان کے قصوروار ثابت ہونے پرروک لگانے اورسزا معطل کرنے اورعبوری ضمانت دینے کی عرضیوں پرسماعت کے بعد اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



