Bharat Express DD Free Dish

Azam Khan

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ ان کے موکل کی عمر 80 سال ہے، ان کے خلاف 28 مقدمات درج ہیں اور ایک ای سی آئی آر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر ہراسانی کا معاملہ ہے۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ جس واقعہ کا تعلق 2006 سے بتایا جا رہا ہے، اس میں 2019 میں ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ اس وقت اعظم خان اقتدار میں نہیں تھے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘ اور ’جوہر یونیورسٹی‘ کے قیام کے دوران سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور غیر مصدقہ ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔ اس تفتیش کے حصے کے طور پر، ای ڈی (ای ڈی) نے جوہر یونیورسٹی سے منسلک 1,170 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے بھی ضبط کر لیے ہیں۔

عدالت نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک سماعت کے بعد انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔ اب انہیں 13 نومبر 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اعظم خان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ یکم اگست 2019 کو درج کیا گیا تھا۔

ای ڈی کے حکام اعظم خان کو غازی آباد لے کر پہنچے، جہاں انہیں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ای ڈی نے ہفتہ 31 اکتوبر کو اعظم خان کو مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق جاری منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا تھا۔

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام پورجیل سے باہرنکلتے ہی حراست میں لے لیا ہے۔ ای ڈی کی ٹیم پیرا ملٹری فورسیز کے ساتھ پہنچی تھی۔ جانچ ایجنسی کی تقریباً تین گاڑیاں رام پور جیل کے باہر کھڑی تھیں۔

ذرائع کے مطابق، سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم ہفتہ (31 اکتوبر) کی صبح رام پورجیل سے چھوٹ سکتے ہیں۔ دونوں کی رہائی کے احکامات عدالت سے رام پورجیل پہنچ چکے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات (29 اکتوبر) کو دوپین کارڈ معاملے میں دونوں کوضمانت دے دی تھی۔

سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اورعبداللہ اعظم کوالہ آباد ہائی کورٹ نے دوپین کارڈ کیس میں ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے ان کی سزائیں معطل کردیں، لیکن قصوروار قرار دیئے جانے کے فیصلے پر روک لگانے سے انکارکردیا۔

اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر تنظیم فاطمہ نے کہا کہ ٹکٹ کے معاملے میں ان کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ اعظم خان، اکھلیش یادو کو اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں۔ ایسے میں کسی طرح کے اختلافات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ٹکٹ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پارٹی مناسب سمجھے گی،

2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے رام پور جیل میں اعظم خان سے ملاقات کی۔ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی ملاقات کے بعد اکھلیش نے اعظم خان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔

اکھلیش یادو اور اعظم خان کی یہ ملاقات تقریباً ایک سال بعد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے اکھلیش یادو نے 8 اکتوبر 2025 کو اعظم خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ اب رام پور جیل میں ہونے والی ملاقات کے دوران 2027 کے اسمبلی انتخابات اور ریاست کی سیاسی صورت حال پر گفتگو ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔