’’ہنومان گڑھی میں کبھی نہیں پڑھی گئی نماز‘‘، برج بھوشن سنگھ کا بڑا دعویٰ، کہا- ایک مسلمان نے کرائی مندرکی تعمیر، سوامی اویمکتیشورانند، جوہر یونیورسٹی اور مولانا جرجیس سے متعلق بھی کہی یہ بڑی بات
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن سنگھ نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھے جانے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مندر کی تعمیر ایک مسلم نے کرائی تھی۔ رام مندرچندہ چوری کے معاملے میں برج بھوشن سنگھ نے واضح طور پر کہا کہ اس معاملے سے نہ تو وزیر اعظم مودی کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا کوئی تعلق ہے۔
Mohammad Ali Jauhar University: اعظم خان کے لئے بڑا جھٹکا، محمد علی جوہر یونیورسٹی پر چلے گا بلڈوزر، رام پور ڈیولیمنٹ اتھارٹی نے جاری کیا حکم
رام پورکے ضلع مجسٹریٹ اجے کماردویدی نے بتایا کہ جوہریونیورسٹی کو پہلے نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے جواب میں انتظامیہ نے تحریری وضاحت بھی پیش کی۔ بعد ازاں تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی مجموعی 40 عمارتوں میں سے صرف دوعمارتوں کے نقشے منظورشدہ ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتیں بغیرمنظوری کے تعمیر کی گئی ہیں۔ اسی بنیاد پرانہیں غیرقانونی قراردیتے ہوئے انہدام کا حکم صادرکیا گیا۔
Jauhar Trust Charitable Status: اعظم خان کے جوہر ٹرسٹ کا چیریٹیبل درجہ منسوخ، اعظم خان کی مشکلوں میں مزید اضافہ، اب انکم ٹیکس میں نہیں ملے گی رعایت
انکم ٹیکس محکمے نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جوہر ٹرسٹ کے خیراتی (چیریٹیبل) درجے کو منسوخ کردیا ہے۔ جوہر یونیورسٹی کی تعمیراتی لاگت اور چندے کی رقم پر سنگین اعتراضات اٹھاتے ہوئے 147 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔
Azam khan Case: قانونی مشکلات میں ایک بار پھر گھرے اعظم خان، پانچ سال پرانی شکایت پر محکمۂ انکم ٹیکس کا نوٹس جاری
سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لیڈر اعظم خان کے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کو محکمۂ انکم ٹیکس، لکھنؤ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس کی سماعت 23 جون کو ہوگی۔ یہ کارروائی بی جے پی کے رکنِ اسمبلی آکاش سکسینہ کی جانب سے 2021 میں کی گئی شکایت کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔
Azam Khan Case: رامپور میں یوگی حکومت کا بڑا فیصلہ، اعظم خاں کے مقدمات میں سرکاری پیروی کرنے والے 6 سرکاری وکلاء کو ہٹا دیا گیا
سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈ اعظم خاں کے مقدمات میں حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والے 6 وکلاء کو اتر پردیش حکومت نے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ ہفتے کے روز ضلع مجسٹریٹ رامپور کے جاری کردہ اس کارروائی کے احکامات منظرِ عام پر آئے، جس کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
Abdullah Azam gets big relief from court: دو پاسپورٹ معاملے میں عدالت سے عبداللہ اعظم کو بڑی راحت، سات سال کی سزا منسوخ
ناصر سلطان نے بتایا کہ عدالت نے عبداللہ اعظم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو پلٹ دیا، لیکن انہیں ابھی جیل میں ہی رہنا ہوگا کیونکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات بھی زیر التوا ہیں۔
When will Azam Khan and Abdullah Azam be Released: سزا میں مزید 3 سال کا اضافہ، اب کب ہوگی اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی رہائی؟
قید و بند کی صعبتیں برداشت کر رہے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دو پین کارڈ معاملے میں رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے اعظم خان کی سزا میں مزید تین سال کا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ عبداللہ اعظم پر جرمانے کی رقم بڑھائی گئی ہے۔ جس سے جیل سے باہر آنے کا انتظار مزید بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
Azam Khan and Abdullah Azam Khan Jail Sentence Increased: اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو بڑا جھٹکا، دو پین کارڈ معاملے میں سزا بڑھ کر ہوئی 10 سال
رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے سیشن کورٹ نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو دو پین کارڈ معاملے میں بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ان کی سزا سات سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی ہے۔
Azam Khan Verdict: اعظم خان کو لگا بڑا جھٹکا، رام پور کی عدالت نے سنائی 2 سال کی سزا، جانئے پورا معاملہ
سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈر اعظم خان کو رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے 2 سال کی سزا سنائی ہے۔ 2019 لوک سبھا الیکشن سے متعلق معاملے میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ فی الحال اعظم خان اپنے بیٹے عبداللہ اعظم خان کے ساتھ رام پورجیل میں بند ہیں۔
اعظم خان کی مشکلات میں اضافہ، اس معاملے میں ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے قرار دیا قصوروار، کچھ دیر میں سزا کا اعلان
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دو پین کارڈ معاملے میں 7 سال کی قید کاٹ رہے اعظم خان کو رام پور کی ایک عدالت نے ایک اور معاملے میں قصور وار قرار دیا ہے۔ لوک سبھا الیکشن 2019 کے دوران سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کا ایک بیان کافی تنازعہ میں آگیا تھا۔





