Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پی ایم مودی نے بتایا کہ سولر پاور سے کسانوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ سولر پمپ اور سولر رائس ملز کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھی ہے۔ انہوں نے بہار کی دیوکی جی کا ذکر کیا جنہیں اب محبت سے ’سولر دیدی‘ کہا جاتا ہے۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ:"اب تک ایسے امیدواروں کو دیگر امتحانات کے لیے نئے سرے سے تیاری کرنی پڑتی تھی، جو وقت اور وسائل دونوں کا زیاں تھا۔ لیکن ‘پرتیبھا سیتو’  کے ذریعے ان کی محنت کا مناسب استعمال ممکن ہو سکے گا۔"

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔

پی ایم  مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں فوج، مقامی افراد، سماجی کارکنوں، ڈاکٹروں اور انتظامیہ نے مثالی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ہر اس شہری کا دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے انسانیت کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر مدد کی۔

پروگرام میں اب تک صفائی مہم (سوچھ بھارت ابھیان)، ماحولیات، ڈیجیٹل تعلیم، خواتین کا بااختیار بنانا اور گراس روٹ سطح پر اختراعات جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ اس کے اثرات کی بدولت کئی تحریکیں عوامی شمولیت کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر ثابت ہوئیں۔

اس اہم ملاقات میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈووال بھی شریک تھے، جس سے اس بات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ سیکیورٹی اور اسٹریٹیجک امور بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔

گلوان جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ سرحد پر کشیدگی میں کمی آئی ہے، اور براہ راست پروازیں بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ چین نے کئی سال بعد پہلی بار کالاش مانسروور یاترا کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔