Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

پنجاب بی جے پی نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا:"پی ایم  نریندر مودی 9 ستمبر کو پنجاب کے ضلع گرداسپور آئیں گے۔ وہ سیلاب متاثرین سے براہِ راست ملاقات کریں گے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں گے، اور ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔"

بھوٹان کے وزیر اعظم ٹوبگے نے، جو 3 سے 6 ستمبر تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں، جمعہ کے روز اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایودھیا کے شری رام جنم بھومی مندر میں پوجا کی اور مذہبی رسومات میں شرکت کی۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی جمعے کے روز شمالی ہند میں موسلادھار بارش، بادل پھٹنے اور سیلاب کے باعث ہونے والی انسانی اور مالی تباہی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

سی ایم فڑنویس نے کہا کہ ٹرمپ جو بھی کہیں، مودی جی عظیم ہیں۔ ساری دنیا کے لیڈر انہیں عظیم مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا ہندوستان مودی جی کا ہندوستان ہے جو اپنی خارجہ پالیسی خود طے کرتا ہے اور کسی کے دباؤ میں نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا ’ترقی یافتہ بھارت‘ بننے کا سفر رکنے والا نہیں ہے۔

صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان اس ملاقات کو ملک کے اتحاد اور خوشحالی کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دو روز قبل یورپی کمیشن کی صدر نے بھی وزیرِ اعظم مودی سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’بھارت کو روس پر دباؤ ڈالنے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ’’اسٹیج کی تعمیر کے لیے سامان ریاست سے باہر سے منگوایا جا رہا ہے اور 100 سے زائد مزدور کام میں مصروف ہیں۔‘‘

پی ایم مودی نے ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس  پر لکھا کہ وہ امریکی صدر کے جذبات اور تعلقات کے مثبت جائزے کی گہری قدر کرتے ہیں اور اس کا مکمل طور پر ساتھ دیتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کا دفاع کیا، لیکن انہوں نے پی ایم مودی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو واضح طور پر اجاگر بھی کیا۔ انہوں نے کہا، "میں مودی جی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتا ہوں۔ وہ ایک عظیم انسان ہیں۔ کچھ مہینے پہلے وہ یہاں (امریکہ) آئے تھے۔"

یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک محتاط توازن کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ روس جیسے پرانے اتحادی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قائم رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف امریکہ جیسے اہم تجارتی شراکت دار سے تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔