Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Likely to Visit Manipur: پی ایم مودی جلد کر سکتے ہیں منی پور کا دورہ، ریاست میں زور و شور سے جاری ہے استقبال کی تیاری

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ’’اسٹیج کی تعمیر کے لیے سامان ریاست سے باہر سے منگوایا جا رہا ہے اور 100 سے زائد مزدور کام میں مصروف ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی

منی پور کے دارالحکومت امپھال کے تاریخی کنگلا قلعے میں وزیراعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورہ کے پیشِ نظر بڑے پیمانے پر صفائی، رنگ و روغن اور اسٹیج کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق قلعے کے اندر ایک عظیم الشان اسٹیج تعمیر کیا جارہا ہے جس کے سامنے 15,000 سے زائد افراد کی گنجائش کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکام نے ان سرگرمیوں کی باضابطہ وجہ بیان کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم انھوں نے بتایا کہ انھیں تمام کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ریاست کے باہر سے منگوایا جا رہا ہے تزئین کا سامان

واضح رہے کہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی کا 13 ستمبر کو منی پور کا دورہ متوقع ہے، جو ریاست میں مئی 2023 سے جاری نسلی کشیدگی کے بعد ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ تیاریاں اسی دورے کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ’’اسٹیج کی تعمیر کے لیے سامان ریاست سے باہر سے منگوایا جا رہا ہے اور 100 سے زائد مزدور کام میں مصروف ہیں۔ قلعے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور آنے والے افراد کا اندراج کیا جا رہا ہے۔‘‘

کنگلا قلعہ منی پوری حکمرانوں کی قدیم طاقت کی علامت رہا ہے اور اب بھی ریاستی ثقافت میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ امپھال ایئرپورٹ سے قلعے تک 7 کلومیٹر طویل سڑک کے بیچوں بیچ موجود درمیانی پٹیاں دوبارہ رنگی جا رہی ہیں اور درختوں کی شاخیں تراشی جا رہی ہیں۔ چوراچند پور ضلع میں بھی ’’پیس گراؤنڈ‘‘ کے مقام پر تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر نے بتایا کہ ’’اگر وزیراعظم آتے ہیں تو ہم ان کا شایانِ شان استقبال کریں گے، حالاں کہ ابھی تک ہمیں ان کے دورے کی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔‘‘

دوسری جانب حزب اختلاف نے وزیراعظم کو نسلی تشدد سے متاثرہ ریاست کا دورہ نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یاد رہے کہ مئی 2023 سے جاری نسلی فسادات میں 260 سے زائد افراد ہلاک جب کہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر مرکز نے ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا تھا اور وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کے استعفیٰ کے بعد ریاستی اسمبلی کو معطل کر دیا گیا تھا، حالاں کہ اسمبلی کی مدت 2027 تک ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read