Bharat Express DD Free Dish

PM Modi will not go to America this month: اس مہینے امریکہ نہیں جائیں گے پی ایم مودی، یو این جی اے میں جے شنکر کریں گے خطاب، ٹیرف تنازع کے دوران اہم فیصلہ

یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک محتاط توازن کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ روس جیسے پرانے اتحادی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قائم رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف امریکہ جیسے اہم تجارتی شراکت دار سے تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے رواں ماہ کے آخر میں نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے سالانہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُن کی غیرموجودگی میں بھارت کی نمائندگی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر کریں گے، جو عالمی سفارتی سطح پر بھارت کی پالیسی اور مؤقف کو پیش کریں گے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں خاصی کشیدگی پیدا ہو چکی ہے، خصوصاً تجارتی محصولات یعنی ٹیرف کے مسئلے پر۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے  صد ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے روس سے تیل خرید کر امریکہ کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے، جس پر اُنہوں نے بھارت پر مالی جرمانہ عائد کرنے کی بات کی۔ اس قدم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق بھارت کو امریکہ یا روس-چین اتحاد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ امریکہ کی طرف سے یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر بھارت نے اپنے مؤقف میں تبدیلی نہ کی تو اُس کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں پی ایم مودی کا UNGA اجلاس میں نہ جانا ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق، بھارت نے شاید امریکہ کے دباؤ کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے وزیرِ خارجہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے اور سفارتی سطح پر بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔

ڈاکٹر ایس  جے شنکر، جو ایک تجربہ کار سفارتکار اور کئی دہائیوں تک مختلف ممالک میں بھارت کی نمائندگی کر چکے ہیں، عالمی اسٹیج پر بھارت کے مؤقف کو مدلل انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی کا دفاع کریں گے بلکہ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ موجودہ تنازع کو بات چیت کے ذریعے سلجھانے کی کوشش بھی کریں گے۔

یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک محتاط توازن کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ روس جیسے پرانے اتحادی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قائم رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف امریکہ جیسے اہم تجارتی شراکت دار سے تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔

مزید یہ کہ، عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر سال دنیا کے رہنما بین الاقوامی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ پی ایم مودی کا اس اجلاس میں شرکت نہ کرنا غیر معمولی ضرور ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں اسے ایک سوچا سمجھا اور تزویراتی (اسٹریٹجک) فیصلہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read