Bharat Express DD Free Dish

UNGA

روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کی ہے۔ماریشس کے وزیر خارجہ دھننجے رامفل نے بھارت کی مستقل نشست کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ پرتگال کے وزیر اعظم لوئس مونٹی نیگرو نے بھی زیادہ نمائندہ سلامتی کونسل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھارت، برازیل اور افریقہ کو مستقل نمائندگی دینے کی حمایت کی۔ مارشل آئی لینڈز کی صدر ہلڈا ہین نے بھی جی-4 کی امیدواری کی حمایت کی۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پاکستان کو اسی کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا۔ جب ایک پاکستانی صحافی نے پریس بریفنگ کے دوران بھارت پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے سوال پوچھنے کی کوشش کی، تو ڈاکٹر جے شنکر نے انہیں ایک ہی جملے سے لاجواب کر دیا: "ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہی ہے۔"

نیویارک میں 22 ستمبر کو فلسطین کو منظوری دینے سے متعلق ایک اہم میٹنگ ہونی ہے۔ میٹنگ میں کئی مغربی اور یوروپی ممالک کے بھی فلسطین کو منظوری دینے کی امید ہے۔ اب اس فہرست میں ایک ملک کا نام اور جڑگیا ہے۔

یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک محتاط توازن کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ روس جیسے پرانے اتحادی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قائم رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف امریکہ جیسے اہم تجارتی شراکت دار سے تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔

اس قرارداد میں، جس کے حق میں 116 ووٹ آئے اور 12 ممالک غیر حاضر رہے، طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جابرانہ پالیسیوں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کو روکیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جب مارکیٹ پر قبضہ کرنے میں تحمل کا فقدان ہوتا ہے تو اس سے دوسروں کی روزی روٹی اور سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے آب و ہوا کی ذمہ داریوں سے گریز ترقی پذیر ممالک کی ترقی کے امکانات کو کمزور کر دیتا ہے۔

بھارتی سفارت کار کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات ہے ملاقات میں ایک مضحکہ خیز بات سننے کو ملی۔ میں پاکستانی وزیراعظم کی تقریر میں بھارت کے حوالے سے بات کر رہی ہوں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کو اپنے پڑوسیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اردوغان نے کشمیر کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعاون اور بات چیت سے کشمیر میں امن آئے گا تو اس سے جنوب میں امن آئے گا، ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔

ایلون مسک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اداروں کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سب کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جن ممالک کے پاس زیادہ طاقت ہے وہ اسے اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔

حماد نے کہا کہ بہت زیادہ انسانی امداد ابھی تک شمالی غزہ تک نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس بات کی اضافی ضمانتیں ہونی چاہئیں کہ جنگ بندی کو عمل میں لایا جائے گا۔"